حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 507 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 507

حیات احمد ۵۰۷ جلد دوم حصہ سوم ☆ کسی طرح منیلا آ سکتے تو امریکہ میں اشاعت اسلام کے کام میں کچھ صلاح و مشورہ کیا جاتا۔حاجی عبداللہ عرب صاحب کو حضرت پیر سید اشہد الدین جھنڈے والے سے بیعت ہے۔شاہ صاحب کی بڑی عظمت عبداللہ عرب کے دل میں ہے مجھ سے اس قدر تعریف اُن کی بیان کی ہے کہ مجھ کو بھی مشتاق بنا دیا ہے کہ ایک بار حضرت پیر سید اشہد الدین صاحب کی ملاقات ضرور کروں جب کوئی اہم کام پیش ہوتا ہے۔تو حاجی عبداللہ عرب صاحب اپنے پیرومرشد سے صلاح ضرور ہی لے لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے مرشد سے منیلا جانے کے بارے میں استفسار کیا۔استخارہ کیا گیا۔شاہ صاحب نے کہا کہ ضرور جاؤ۔اِس سفر میں کچھ خیر ہے عبداللہ عرب صاحب نے مجھ کو خط لکھا کہ تو بھی منیلا چل۔میں انگریزی نہیں جانتا۔اور ویب صاحب اردو نہیں جانتے۔ایک مترجم ضروری ہے۔اور ایک نو مسلم سے ملنا ہے۔نہ معلوم اس بیچارہ کو دین اسلام کے بارہ میں کیا کچھ پوچھنے کی حاجت ہو۔میں اس زمانہ میں کٹک میں تھا۔کلکتہ میں حاجی صاحب میرا بہت انتظار کرتے رہے مسلمانانِ کٹک نے مجھ کو جلد رخصت نہ دی۔آخر وہ ایک یوریشین نو مسلم کو لیکر منیلا چلے گئے۔اس سفر میں حاجی صاحب کا ہزار روپیہ سے بالا صرف ہوا۔ویب صاحب سے ملاقات ہوئی۔یہ بات طے پائی کہ ویب صاحب سفارت کے عہدہ سے استعفا داخل کریں۔اور اشاعت اسلام کے لئے حاجی عبداللہ عرب صاحب چندہ جمع کریں۔حاجی صاحب نے ہندوستان واپس آ کر مجھ سے ملاقات کی اور میرے ذریعہ سے ایک جلسہ حیدرآباد میں قائم ہوا۔جس میں چھ ہزار روپیہ چندہ بھی جمع ہوا لیکن میں نے حاجی صاحب سے کہہ دیا کہ ابھی ویب صاحب کو عہدہ سے علیحدہ ہونے کو نہ لکھو۔جب تک چندہ پورا جمع نہ ہوئے۔حاجی صاحب نے اپنے جوش میں میری نہ سنی اور بمبئی سے تار دیا کہ سب ٹھیک ہے تم نوکری سے استعفا داخل کر دو۔چنانچہ ویب صاحب نے ویسا ہی کیا اور ہندوستان آئے۔میں بمبئی سے ساتھ ہوا بمبئی۔پونہ۔حیدر آباد۔مدراس حاشیہ۔یہ پیر صاحب ضلع حیدر آباد سندھ تحصیل ہالہ میں رہتے ہیں۔ان کے لاکھوں لاکھ مرید ہیں۔اور علاقہ سندھ میں لوگ ان کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ان کی کرامات و بندگی کے سب قائل ہیں۔