حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 506
حیات احمد ۵۰۶ جلد دوم حصہ سوم زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب مجد د زمان کے انگریزی اشتہارات کی یورپ و امریکہ میں خوب اشاعت ہو رہی تھی۔ویب صاحب نے اشتہار کو دیکھا۔اور مرزا صاحب سے خط و کتابت شروع کی۔جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ ویب صاحب نے اسلام قبول کر لیا۔حاجی عبد اللہ عرب ایک میمن تاجر ہیں۔جو کلکتہ میں تجارت کرتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے لاکھ دو لاکھ کی پونجی کا ان کو سامان کر دیا۔تو ہجرت کر کے مدینہ میں جا بسے۔وہاں باغوں کے بنانے میں بہت کچھ صرف کیا۔بہت عمدہ عمدہ باغ تیار تو ہو گئے لیکن عرب کے بدوؤں کے ہاتھوں پھل ملنا مشکل۔آخر بیچارے پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔جدہ میں آکر ایک مختصر پونجی سے تجارت شروع کر دی بمبئی سے تجارتی تعلق ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں بھی کبھی کبھی آ جاتے ہیں۔یہ بزرگ ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا مومن ہے اللہ نے اس شخص کو مادر زاد ولی بنایا ہے۔اس کمال و خوبی کا مسلمان میری نظروں سے بہت ہی کم گزرا۔مثل بچوں کے دل گناہوں سے پاک وصاف خدا پر بہت ہی بڑا تو کل۔ہمت نہایت بلند۔مسلمانوں کی خیر خواہی کا وہ جوش کہ صحابہ یاد پڑ جائیں۔اے خدا اگر عبداللہ عرب کے ایسے پانچ سو مسلمانوں کی جماعت بھی تو قائم کر دے تو ابھی مسلمانوں کی دنیا بھی بدل جائے۔خدا نے اپنے فضل و کرم سے مجھ کو بھی کچھ تھوڑا سا جوش اہلِ اسلام کی خیر خواہی کا عنایت فرمایا ہے۔لیکن جب میں عبداللہ عرب کے جوش پر غور کرتا ہوں تو سر نیچا کر لیتا ہوں۔مجھ کو عبد اللہ عرب کے ساتھ بڑا نیک ظن ہے اور وہ بھی مجھے محبت سے ملتے ہیں۔مجھ کو عبداللہ کے ساتھ رہنے کا عرصہ تک موقع ملا ہے۔اگر میں ان کی روحانی خوبیوں کو لکھوں تو بہت طول ہو جائے گا۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس آخری زمانہ میں بھی اس قسم کے مسلمان موجود ہیں۔مکہ معظمہ میں نہر زبیدہ کی اصلاح کے لئے قریب چار لاکھ روپیہ چندہ ایک عبداللہ عرب صاحب کی کوشش سے جمع ہوا تھا۔بمبئی میں عبداللہ عرب صاحب نے الگزنڈر رسل ویب سفیر امریکہ کے مسلمان ہونے کا حال سنا۔فوراً انگریزی میں خط لکھوا کر ویب صاحب کے پاس روانہ کیا۔ویب صاحب نے بھی ویسے ہی گرم جوشی کے ساتھ جواب دیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر آپ