حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 505 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 505

حیات احمد ۵۰۵ جلد دوم حصہ سوم ویب صاحب نے کالج میں پوری تعلیم پائی۔اور اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر ایک ہفتہ واری اخبار جاری کیا۔ویب صاحب کی لیاقت اعلیٰ طرز و تحریر کا شہرہ دور دور ہوا۔ایک روزانہ اخبار سینٹ جوزف مسوری ڈیلی گزٹ کی ایڈیٹری کے معزز عہدہ پر ویب صاحب کی دعوت کی گئی۔پھر اس کے بعد اور کئی اخباروں کی ایڈیٹری کا کام ویب صاحب کے سپرد ہوتا رہا کوئی صاحب لفظ اخبار کے کہنے سے کہیں رفیق ہند علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اخبار عام کی اڈیٹری نہ سمجھ لیں۔ہندوستان کے دیسی اخباروں کو امریکہ کے اخباروں سے وہی نسبت ہے جو ایک تین چار برس کے لڑکے کو ایک چالیس پچاس برس کے ذی علم و تجربہ کار شخص کے ساتھ ہوسکتی ہے۔امریکہ کے اخباروں کی تعداد کا حساب ہزار سے نہیں ہوتا بلکہ لاکھ سے۔پھر ایڈیٹر بھی اُسی لیاقت و دماغ کا آدمی ہوتا ہے جو اگر ضرورت ہو تو وزارت کے کام کو بھی انجام دے سکے۔جس اخبار کے ویب صاحب ایڈیٹر تھے وہ امریکہ میں دوسرے نمبر کا اخبار گنا جاتا تھا۔یعنی ایک ہی اخبار ساری قلمرو میں ایسا تھا۔جو ویب صاحب کے اخبار سے زیادہ درجہ اور رتبہ کا تھا۔ویب صاحب کی قابلیت اور لیاقت کا ایسا شہرہ ہوا کر پریذیڈنٹ سلطنت امریکہ نے ان کو سفارت کے معزز عہدہ پر مقرر کر کے جزیرہ فلپائن کے پایہ تخت منیلا کو روانہ کیا سفیر سلطنت گورنر کا ہم رتبہ ہوتا ہے۔۱۸۷۲ء میں مسٹر ویب نے دین عیسوی کو ترک کر دیا۔انہوں نے دیکھا کہ عیسائی مذہب سراسر خلاف عقل و عدل ہے۔کئی برس تک ویب صاحب کا کوئی دین نہ تھا لیکن ان کو ایک قسم کی بے چینی تھی۔دل میں خیال کیا کہ اس جہاں کے سارے ادیان پرغور کروں۔شائدان میں سے کوئی سچا مذہب ہو۔پہلے پہل بدھ کی تحقیقات کامل کے بعد اس مذہب کو تشفی بخش نہ پایا۔اسی بقیہ حاشیہ۔بدھ اور برہمن مت کی بابت کچھ پڑھا ہے اور کسی قدر تعلیمات زردشت و کنفیوشس کا مطالعہ بھی کیا ہے۔لیکن محمد صاحب کی نسبت بہت کم۔میں راہ راست کی نسبت ایسا مذبذب رہا ہوں اور اب بھی ہوں کہ گو میں عیسائی گروہ کے ایک گرجا کا امام ہوں مگر سوائے معمولی اور اخلاقی نصیحتوں کے اور کچھ سکھلانے کے قابل نہیں غرض میں سچ کا متلاشی ہوں اور آپ سے اخلاص رکھتا ہوں۔آپ کا خادم الگزنڈر آروب۔پستہ۔۳۰۲۱۔اسٹرن رو نیوسینٹ لوئس مسوری اضلاع متحدہ امریکہ۔