حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 504
حیات احمد وو ۵۰۴ جلد دوم حصہ سوم خیال کرنا چاہئے کہ جو شخص تمام دنیا میں اپنے الہامی دعوی کے اشتہار بھیج کر سب قسم کے مخالفوں کو آزمائش کے لئے بلاتا ہے اس کی یہ جرات اور شجاعت کسی ایسی بنا پر ہو سکتی ہے جو نرا فریب ہے۔کیا جس کی دعوت اسلام و دعویٰ الہام کے خطوں نے امریکہ اور یورپ کے دور دور ملکوں تک ہل چل مچادی ہے۔کیا ایسی استقامت کی بنیا دصرف لاف و گزاف کا خس و خاشاک ہے۔کیا تمام جہان کے مقابل پر ایسا دعویٰ وہ منگار بھی کر سکتا ہے کہ جو اپنے دل میں جانتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔اور خدا میرے ساتھ نہیں“۔( شحنه حق ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۷۳٫۳۷۲) مسٹر الیگزینڈ رویب کا قبول اسلام چونکہ او پر اس دعوت اسلام کے اثرات میں مسٹر الیگزینڈر آر۔ویب کا ذکر آ چکا ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق اور اس کے قبول اسلام کو جو حضرت اقدس ہی کی تبلیغ کا نتیجہ تھا کسی قدر تفصیل سے بیان کیا جاوے۔اس خصوص میں حضرت مولوی حسن علی مسلم مشنری نے جو کچھ تحریر فرمایا ہے میں اسے ہی یہاں دوں گا۔حضرت مولوی حسن علی ہندوستان میں پہلے مسلم مشنری تھے جنہوں نے ایک معقول ملا زمت چھوڑ کر تبلیغ اسلام کا کام شروع کیا اور بالآخر وہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔وہ چونکہ مسٹر الیگزینڈر آر۔ویب کے ساتھ رہے ہیں ان کا بیان نہایت اہم ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔ملک امریکہ میں اسلام کیونکر پھیل رہا ہے۔اس قصہ سے بہت حضرات پورے واقف نہیں ہوں گے۔ملک امریکہ کے شہر ہڈسن علاقہ نیویارک میں ۱۸۴۶ء میں ایک شخص پیدا ہوا جس کا نام الیگزینڈر رسل وب رکھا گیا۔اس شخص کا باپ ایک نامی ومشہور اخبار کا اڈیٹر و مالک تھا۔نوٹ۔امریکہ سے ابھی ہمارے نام ایک چٹھی آئی ہے۔جس کے مضمون کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔صاحب من ایک تازہ پرچہ اخبار اسکاٹ صاحب ہمہ اوستی میں میں نے آپ کا خط پڑھا جس میں آپ نے ان کو حق دکھانے کی دعوت کی ہے اس لئے مجھے کو اس تحریک کا شوق ہوا۔میں نے مذہب