حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 496
حیات احمد ۴۹۶ جلد دوم حصہ سوم خواب تھی۔یہ خط شیخ صاحب کے حوالات میں ہونے کے بعد ان کے گھر سے ان کے بیٹے کو ملا۔پھر بعد اس کے بھی ایک دو خواب ایسے ہی آئے۔جن میں اکثر حصہ وحشت ناک اور کسی قدرا چھا تھا۔میں تعبیر کے طور پر کہتا ہوں کہ شاید یہ مطلب ہے کہ درمیان میں سخت تکالیف ہیں۔اور انجام بخیر ہے۔مگر ابھی انجام کی حقیقت مجھ پر صفائی سے نہیں کھلی۔جس کی نسبت دعوی سے بیان کیا جاۓ۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب از مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحب - مکتوبات احمد یہ جلد ۵ حصہ ۳ صفحه ۲۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۳۸۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸ جون ۱۸۸۶ء کے قریب ” شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا۔کہ عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا۔کہ ایک فرزند قوى الطاقتين كامل الظاہر والباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔سواس کا نام بشیر ہوگا۔اب تک میرا قیاسی طور پر خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ سے ہوگا۔اب زیادہ تر الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا۔اور جناب الہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی۔وہ صاحب اولاد ہوگی۔اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے۔تین اس میں سے تو آم کے تھے۔مگر ایک پھل سبز رنگ بہت بڑا تھا۔وہ اس جہاں کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا اگر چہ ابھی یہ الہامی بات نہیں مگر میرے دل میں یہ پڑا ہے کہ وہ پھل جو اس جہاں کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ کچھ شک نہیں کہ پھلوں سے مراد اولاد ہے جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیئے گئے۔جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے۔تو یہی سمجھا جاتا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب 66 از مکتوبات مورخہ ۱۸ جون ۱۸۸۶ء بنام حضرت خلیفہ مستح اول۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۲۵ مرتبه عرفانی الکبیر مکتوبات احمد جلد۲ صفحه۱۳٫۱۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اگست ۸۶ ''ہم پر آج بھی جو تیسری اگست ۸۶ء ہے۔منجانب اللہ اس کی نسبت معلوم ہوا ہے کہ اگر وہ تو بہ نہ کرے تو اس کی بیرا ہیوں کا وبال جلد تر اسے درپیش ہے۔اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو۔تو اُس کو پیشگوئی کا مصداق مت سمجھو۔لیکن اگر ایسا رنج پیش