حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 494 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 494

حیات احمد ۴۹۴ جلد دوم حصہ سوم اور اپنے مطلب سے ناکام رہے گا۔۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء " اس عاجز کے اشتہار مورخہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء پر جس میں ایک پیشگوئی دربارہ تولد ایک فرزند صالح ہے۔جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا۔بموجب وعدہ الہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہو گا۔خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا۔“ (اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء) ایسا لڑکا تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۷۲۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۹۸۔بار دوم ) اپریل ۱۸۸۶ء " بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الہی میں توجہ کی گئی تو آج ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جواب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا۔“ (اشتہار ۱/۸ اپریل ۱۸۸۶ء تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۷۶۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۰۲،۱۰۱ بار دوم ) بقیہ حاشیہ نمبر۲۔( ج ) دلیپ سنگھ کے ابتلا کا حال جو آپ ( یعنی لالہ مرلیدھر صاحب۔مرتب ) نے پیش از وقوع اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں پڑھ لیا تھا اور پھر میری زبانی بھی ایک مجمع عام میں جس میں کئی ہندو صاحب آپ کے رفیق بھی شامل تھے، سن لیا تھا۔یہ تازہ اجرا امید نہیں کہ اس قدر جلد تر عرصہ میں آپ کو بھول گیا ہو۔اب آپ ذرا بیدار ہو کر دیکھیں کہ یہ پیشگوئی کیسی ہو بہو پوری ہوگئی اور دلیپ سنگھ کو قصد سفر پنجاب میں کیا کچھ غم وغصہ تلخی و رنج اٹھانا پڑا اور کیسے وہ نا کامی سے خفیف کر کے واپس لوٹایا گیا۔کیا آپ حلف اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو پیش از وقوع دلیپ سنگھ کے ابتلا کی خبر نہیں دی گئی؟ کیا آپ قسم کھا کر بیان کر سکتے ہیں کہ آپ کو جلسہ عام میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ فقرہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء جس میں لکھا ہے کہ امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبریں اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے۔ایسا ہی یہ خبر جابجا صد ہاہندوؤں اور مسلمانوں کو جو پانچ سو سے کسی قدر زیادہ ہی ہوں گے کئی شہروں میں پیش از وقوع بتلائی گئی تھی۔اور اشتہارات ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء بھی دُور دُور ملکوں تک تقسیم کئے گئے تھے۔پھر آخر کار جیسا کہ پیش از وقوع بیان کیا گیا اور لکھا گیا تھا۔وہ سب باتیں دلیپ سنگھ کی نسبت پوری ہو گئیں۔“ سرمه چشم آریہ صفحہ ۱۸۷، ۱۸۸۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۳۶،۲۳۵)