حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 41
حیات احمد ام جلد دوم حصہ اوّل (جہاں آج کل یہ مسودہ لکھ رہا ہوں ستمبر ۱۹۳۰ء) انہیں ایک خط لکھا اور یادہانی کرائی انہوں نے از راہ کرم مجھے جو جواب دیا ہے میں اسے یہاں درج کرتا ہوں :۔مکتوب مولوی عبدالحق صاحب علیگ پنجارہ روڈ حیدر آباد دکن ۲۶ ستمبر ۱۹۳۰ء مکرم بندہ تسلیم۔آپ کا عنایت نامہ پہنچا جن صاحب کے پاس وہ خطوط تھے ان کا انتقال ہو گیا۔اب ان خطوط کا ملنا محال ہے۔مولوی چراغ علی مرحوم کے بیٹوں میں کسی کو اس کا ذوق نہیں۔بہر حال ان خطوط کے ملنے کی کوئی توقع نہیں۔بقیہ حاشیہ: - معاونت اور نصرت دین متین کے اس کتاب کے چندے میں بحسب توفیق شریک ہوں یا یوں مدد کریں کہ بہ نیت خریداری اس کتاب کے مبلغ پانچ روپیہ جو اصل قیمت اس کتاب کی قرار پائی ہے بطور پیشگی بھیج دیں تا سرمایہ طبع اس کتاب کا اکٹھا ہو کر بہت جلد چھپنی شروع ہو جائے۔اور جیسے جیسے چھپتی جائے گی بخدمت جملہ صاحبین جو بہ نیت خریداری چندہ عنایت فرمائیں گے مرسل ہوتی رہے گی۔لیکن واضح رہے کہ جو صاحب بہ نیت خریداری چندہ عنایت فرمائیں وہ اپنی درخواست خریداری میں بقلم خوش خط اسم مبارک و مفصل پسته و نشان مسکن وضلع وغیرہ کا کہ جس سے بلا ہرج اجزاء کتاب کے وقتاً فوقتاً اُن کی خدمت گرامی میں پہنچتے رہیں ارقام فرماویں۔المشتهر مرزا غلام احمد رئیس قادیان۔مکرر بڑی شکر گزاری سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت مولوی چراغ علی خان صاحب معتمد مدار المهام دولت آصفیہ حیدر آباد دکن نے بغیر ملاحظہ کسی اشتہار کے خود بخو دا اپنے کرم ذاتی و ہمت اور حمایت و حمیت اسلامیہ سے بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے۔( مطبوعہ سفیر ہند امرتسر تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۱۰،۹۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۳ ۲۴۰ بار دوم )