حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 487 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 487

حیات احمد ۴۸۷ جلد دوم حصہ سوم قرآن مجید اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کو آپ نے ایک کھلی کھلی دعوت دی کہ جو اعتراضات ان کے نزدیک سب سے اہم اور غیر متزلزل ہوں وہ پیش کریں آپ اس کا جواب دیں گے۔اور اگر ہم جواب نہ دے سکے توفی اعتراض تاوان دیں گے یہ اشتہار بھی یہ بقیہ حاشیہ۔صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کر کے دکھلا دیں تو مبلغ پانسور و پیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اُسی وقت بلا توقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بپا یہ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا ناجائز اور غیر مسلم ہو گا۔بلکہ سیدھا راہ شناخت پیشگوئی کا یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے۔تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کر کے دکھلاویں۔اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر تمام ہو گی۔اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہر حال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبین میں تحریر ہو کر انعقاد پا جائیں گی۔چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنی ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں اُن کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کر گئے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور۔پنجاب ( منقول از سرمه چشم آریہ مطبوعہ بار اول۔ریاض ہند پریس امرتسر - ستمبر ۱۸۸۶ء صفحه ۲۵۹ و۲۶۰) تبلیغ رسالت جلد اصفحہ ۷۷ تا ۷۹۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۰۴،۱۰۳۔بار دوم ) حاشیہ۔اشتہار مفید الاخیار - جاگو جا گو آر یو نیند نہ کرو پیار۔چونکہ آج کل اکثر ہندوؤں اور آریوں کی یہ عادت ہورہی ہے کہ وہ کچھ کچھ کتابیں عیسائیوں کی جو اسلام کی نکتہ چینی میں لکھی گئی ہیں۔دیکھ کر اور ان پر پورا پورا اطمینان کر کے اپنے دلوں میں خیال کر لیتے ہیں کہ حقیقت میں یہ اعتراضات درست اور واقعی ہیں۔اس لئے قرین مصلحت سمجھ کر اس عام اشتہار کے ذریعہ سے اطلاع دی جاتی ہے کہ اول تو عیسائیوں کی کتابوں پر اعتماد کر لینا اور براہ راست کسی فاضل اہل اسلام سے اپنی عقدہ کشائی نہ کرانا اور اپنے اوہام فاسدہ کا محققین اسلام سے علاج طلب نہ کرنا اور خائنین عناد پیشہ کو امین سمجھ بیٹھنا سراسر بے راہی ہے۔