حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 486 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 486

حیات احمد ۴۸۶ علمی اور عقلی دلائل کے ذریعہ اتمام حجت جلد دوم حصہ سوم یہ تو روحانی مقابلہ تھا اور خدا تعالیٰ کی تجلیات کے مشاہدہ کرانے کی دعوت تھی۔اس میں فریق مخالف سے کوئی نشان نہیں مانگا گیا تھا اس کے ساتھ ہی آپ نے علمی اور عقلی دلائل کے ساتھ بھی اتمام حجت کا اعلان کیا تھا کہ اسلام کی علمی اور روحانی فتح کا ایک ساتھ اعلان ہوا بقیہ حاشیہ۔صاحبان کی خدمت میں اسی مضمون کے خط رجسٹری کرا کر بھیجے۔مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے بلکہ منشی اندر من صاحب کے لئے تو مبلغ چوہیں سوروپے نقد لا ہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کر کے فرید کوٹ کی طرف چلے گئے۔ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھرام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے۔اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق بلکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے۔ہم سے بحساب ماہواری لینا کر کے ایک سال تک ٹھہرو۔اور اخیر پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر ایک سال تک منظور نہیں تو چالیس دن تک ہی ٹھہر و۔تو انہوں نے ان دونوں صورتوں میں سے کسی صورت کو منظور نہیں کیا۔اور خلاف واقعہ سراسر دروغ بے فروغ اشتہارات چھپوائے۔سو ان کے لئے تو رسالہ سرمہ چشم آریہ میں دوبار بھی چالیس دن تک اس جگہ رہنے کا پیغام تحریر کیا گیا ہے۔ناظرین اس کو پڑھ لیں۔لیکن یہ اشتہار اتمام حجت کی غرض سے بمقابل منشی جیون داس صاحب جو سب آریوں کی نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر ہوشیار پور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورتی صاحب کا ہیں۔اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں۔اور پادری عمادالدین لاہنر صاحب امرتسری اور پادری ٹھاکر داس صاحب مؤلف کتاب اظہار عیسوی“ شائع کیا جاتا ہے۔کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہو رہیں۔اور برابر حاضر رہیں۔پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح