حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 485
حیات احمد ۴۸۵ جلد دوم حصہ سوم کی دعوت دی۔یہ اعلان ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء کو شائع کیا گیا اور تین ماہ کی مہلت مقرر کی گئی تھی۔لیکن کسی شخص کو جرات نہ ہوئی کہ مقابلہ کے لئے آئے اس طرح آپ نے اسلام کی روحانی عظمت کا اعلان کیا۔وَلِلَّهِ دَرُّ مَنْ قَالَ آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ہوگئی۔تو اس روز کیا حال ہو گا۔اور کیا کیا ندامتیں اٹھائی پڑیں گی۔یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر ایسی بے ہودہ نکتہ چینیوں سے کسی حق الا مر کو کچھ صدمہ پہنچ سکتا ہے تو پھر کوئی سچائی اس صدمہ سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔حضرت مسیح علیہ السلام کی کئی پیشگوئیوں پر یہودیوں نے ایسی ایسی بلکہ اس سے بڑھ کر نکتہ چینیاں کی ہیں اور ان کی پیشگوئی کو دائرہ صداقت سے باکل دور و مہجور سمجھا ہے۔مگر کیا ایسی بے ہودہ نکتہ چینیوں سے ان کی سچائی میں کچھ فرق آ سکتا ہے بد باطن لوگ ہمیشہ بے ایمانی اور دشمنی کی راہ سے چاند پر خاک ڈالتے رہے ہیں لیکن انجام کار راستی کی ہی فتح ہوتی رہی ہے اور ایسی ہی اب بھی ہو گی۔مرزا صاحب کا رسالہ سراج منیر عنقریب نکلنے والا ہے۔اس میں نہ ایک پیشگوئی بلکہ وہ سارا رسالہ پیشگوئیوں ہی سے بھرا ہوا ہے تب خود سچ اور جھوٹ میں فرق کھل جائے گا۔ذرا صبر کرنا چاہئے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر میر عباس علی لودھیانوی ہشتم جون ۱۸۸۶ء مطبوعہ شعلہ نور پریس بٹالہ تبلیغ رسالت جلد اصفحه ۸۵ تا ۸۸ حاشیہ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۱ تا ۱۱۲ حاشیه بار دوم ) کا حاشیہ۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ۔اشتہار صداقت انوار بغرض دعوت مقابلہ چہل روزہ گرچہ ہرکس ز رو لاف بیانے دارد صادق آنست که از صدق نشانی دارد ہمارے اشتہارات گزشتہ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہم نے اس سے پہلے یہ اشتہار دیا تھا کہ جو معزز آریہ صاحب یا پادری صاحب یا کوئی اور صاحب مخالف اسلام ہیں۔اگر ان میں سے کوئی صاحب ایک سال تک قادیان میں ہمارے پاس آ کر ٹھہرے تو درصورت نہ دیکھنے کسی آسمانی نشان کے چوہیں سوروپے انعام پانے کا مستحق ہوگا۔سو ہر چند ہم نے تمام ہندوستان اور پنجاب کے پادری صاحبان و آریہ ترجمہ۔اگر چہ ہر شخص لاف و گزاف مار لیتا ہے لیکن سچا وہی ہے جو اپنے صدق کے آثار رکھتا۔ہے۔