حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 484 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 484

حیات احمد ۴۸۴ جلد دوم حصہ سوم جمع کرانے بھیجا مگر وہ بھاگ گیا۔لیکھرام نے شرائط کے تصفیہ میں اس مقابلہ کو ٹالا اب ہوشیار پور کے مجاہدہ چہل روزہ کے بعد آپ نے منکرین اسلام پر اتمام حجت کے لئے چالیس روز کے مقابلہ بقیه حاشیه در حاشیہ۔ہے کہ یہ فقرہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ایک ذوی الوجوہ فقرہ ہے۔اگر الہامی عبارت کے سر پر لفظ اس کا ہوتا یعنی عبارت یوں ہوتی کہ اس مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ضرور اس میں پیدا ہو جائے گا۔تو بلا شبہ مواخذہ کی جگہ تھی ، مگر اب تو ناحق کی نکتہ چینی ہے۔جس سے بجز اس کے کہ یہ ثابت ہو کہ معترض سخت درجہ کا متعصب اور کج فہم اور سمح طبع یا سادہ لوح ہے اور کچھ بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔الہامات ربانی یا قوانین سلطانی کی عبارتیں اس پایہ اور عزت کی ہوتی ہیں۔جس کے لفظ لفظ پر بحث کرنا چاہئے۔سوالہامی عبارت میں اس کا لفظ متروک ہونا (جس سے حمل موجودہ میں پیشگوئی محدود ہو جاتی ہے ) صریح بتلا رہا ہے کہ اس جگہ حمل موجودہ مراد نہیں لیا گیا۔بلکہ اس فقرہ کے دو معنے ہیں۔تیسرے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے۔اول۔یہ کہ مدت موعودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔یعنی نو برس سے۔کیونکہ اس خاص لڑکے کے حمل کے لئے وہی مدت موعود ہے۔دوسرے یہ معنے کہ مدت معہودہ حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔سو مدت معہودہ جمل کی اکثر طبیبوں کے نزدیک ڈھائی برس بلکہ بعض کے نزدیک انتہائی مدت حمل کی تین برس تک بھی ہے بہر حال ان دونوں وجوہ میں سے کسی وجہ کی رو سے پیشگوئی کی صحت پر جرح نہیں ہو سکتا۔اسی لئے مرزا صاحب نے اسی اشتہار ۱/۸اپریل میں قیاسی طور پر یہ بھی صاف لکھ دیا تھا کہ غالباً وہ لڑکا اب یا اس کے بعد قریب حمل میں پیدا ہو گا۔اور پھر اس اشتہار کی اخیر سطر میں مرزا صاحب نے یہ بھی تحریر کر دیا کہ میں اسی قدر ظاہر کرتا ہوں کہ جو مجھ پر منجانب اللہ ظاہر کیا گیا۔اور آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہو گا وہ بھی شائع کیا جائے گا۔سو مرزا صاحب نے اپنے اسی اشتہار میں بتلا بھی دیا کہ اشتہار کا الہامی فقرہ مجمل اور ذوی الوجوہ ہے۔جس کی تشریح اگر خدا نے چاہا پیچھے سے کی جائے گی۔اب کیا کوئی انصاف پسند مرزا صاحب کے کسی لفظ سے یہ بات نکال سکتا ہے کہ وہ لڑکا ضرور پہلی ہی دفعہ پیدا ہو جائے گا۔نہ کسی اور وقت۔سو ہم بڑے افسوس سے لکھتے ہیں کہ اسلام کے مخالف غلبہ جوش تعصب میں آ کر اپنی وثاقت کو بھی کھو دیتے ہیں اور ناحق اپنی بداند رونی کولوگوں پر ثابت کرتے ہیں۔نہیں دیکھتے کہ جب میعاد مقررہ باقی ہے۔تب تک اعتراض کی گنجائش نہیں اور وقت سے پہلے شور و غوغا کرنے سے یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہ پیشگوئی اپنے وقت پر پوری