حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 464 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 464

حیات احمد ۴۶۴ جلد دوم حصہ سوم سے آریہ صاحبوں کے اس اصول پر اعتراض پیش ہوا کہ پر میشر نے کوئی روح پیدا نہیں کی اور نہ وہ کسی روح کو خواہ کوئی کیسا ہی راستباز اور وفادار اور سچا پرستار ہو ہمیشہ کے لئے جنم مرن کے عذاب سے نجات بخشے گا۔ان دونوں بحثوں کے وقت یہ بات طے ہو چکی تھی کہ جواب الجواب کے جواب تک بحث ختم ہو اس سے پہلے نہ ہو لیکن ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب نے شرائط قرار یافتہ کو کچھ لوظ نہ رکھا۔پہلے جلسہ میں جو گیاراں مارچ ۱۸۸Yء کو بوقت شب ہوا تھا ان کی طرف سے یہ نا انصافی ہوئی کہ جب جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا جس کی تحریر کے لئے وہ آپ ہی فرما چکے تھے تو ماسٹر صاحب نے رات بڑی چلے جانے کا عذر پیش کیا ہر چند اس عاجز اور اکثر حاضرین نے سمجھایا کہ اے ماسٹر صاحب ابھی رات کچھ ایسی بڑی نہیں گئی ہم سب پر رات کا برابر اثر ہے مگر اقرار کے برخلاف کرنا اچھی بات نہیں جواب ضرور تحریر ہونا چاہئے لیکن وہ کچھ بھی ملتفت نہ ہوئے آخر بمواجہ تمام حاضرین کہا گیا کہ یہ جواب تحریر ہونے سے رہ نہیں سکتا۔اگر آپ اس وقت اس کو ٹالنا چاہتے ہیں تو بالضرور اپنے طور پر رسالہ کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔چنانچہ انہوں نے طوعاً و کرہاً بطور خود لکھا جانا تسلیم کیا پر اسی جلسہ میں وہ تحریر ہو کر پیش ہونا ان کو بہت ناگوار معلوم ہوا جس کی وجہ سے وہ بلا توقف اٹھ کر چلے گئے بات یہ تھی کہ ماسٹر صاحب کو یہ فکر پڑی کہ اگر اس وقت جواب الجواب کا جواب پیش ہوا تو خدا جانے مجھے کیا کیا ندامتیں اٹھانی پڑیں گی غرض یہ جلسہ تو اس طور پر ختم ہو اور اس کے تمام واقعات جو اس مضمون میں مندرج ہیں ان کی شہادت حاضرین جلسہ جن کے نام حاشیہ میں درج ہیں دے سکتے ہیں۔ہمیں کا حاشیہ۔حاضرین جلسہ بحث گیاراں مارچ کے نام یہ ہیں۔میاں شتر و گہن صاحب پسر کلاں راجه رو درسین صاحب والی ریاست سوکیت حال وارد ہوشیار پور۔میاں شتر نجمی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف۔میاں جنمی جی صاحب پسر خورد راجہ صاحب۔بابومولراج صاحب نقل نو لیں۔لالہ رام کچھمن صاحب ہیڈ ماسٹر لودھیانہ۔بابو ہرکشن داس صاحب سیکنڈ ماسٹر ہوشیار پور۔اس جگہ مگر لکھا جاتا ہے کہ میاں شتر و گہن صاحب نے کئی بار ماسٹر صاحب کی خدمت میں التجا کی کہ آپ جواب الجوب کا جواب لکھنے دیں ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے ہمیں کسی نوع سے تکلیف نہیں بلکہ ہمیں جواب سننے کا شوق ہے ایسا ہی کئی ہندو صاحبوں نے یہ منشا ظاہر کیا مگر ماسٹر صاحب نے کچھ ایسی مصلحت سوچی کہ کسی بات کو نہ مانا اور اٹھ کر چلے گئے۔مؤلف