حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 463 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 463

حیات احمد ۴۶۳ جلد دوم حصہ سوم روئیداد مباحثہ ہوشیار پور ما بین حضرت اقدس و ماسٹر مرلی دھر صاحب وو ڈرائنگ ماسٹر یہ مباحثہ اار مارچ ۱۸۸۶ء کو بوقت شب اور ۱۴ مارچ ۱۸۸۶ء کو بوقت دن ہوا۔اور حضرت اقدس ہی کے فرودگاہ پر ہوا۔حضرت اقدس نے اس روئیداد کے متعلق حسب ذیل تحریر فرمایا ہے۔یہ عاجز مؤلف کتاب براہین احمدیہ خدمت میں طالبین حق کے گزارش کرتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ء کے مہینے میں جبکہ یہ عاجز بمقام ہوشیار پور مقیم تھا۔لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے جو آریہ سماج ہوشیار پور کے ایک اعلیٰ درجہ کے رکن اور مدارالمہام ہیں مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہوا۔وجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آ کر درخواست کی کہ تعلیم اسلام پر میرے چند سوالات ہیں اور چاہتا ہوں کہ پیش کروں چونکہ یہ عاجز ایک زمانہ دراز کی تحقیق اور تدقیق کی رو سے خوب جانتا ہے کہ عقائد حقہ اسلام پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا اور جس کسی بات کو کوئی کو نہ اندیش مخالف اعتراض کی صورت میں دیکھتا ہے وہ در حقیقت ایک بھاری درجہ کی صداقت اور ایک عالی مرتبہ کی حکمت ہوتی ہے۔یہ اس کی نظر بیمار سے چھپی رہتی ہے اس لئے باوجود شدت کم فرصتی میں نے مناسب سمجھا کہ ماسٹر صاحب کو ان کے اعتراضات کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے مدد دوں اور بطور نمونہ ان کو دکھلاؤں کہ وید اور قرآن شریف میں سے کونسی کتاب اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور شوکت اور شان کے مطابق ہے اور کس کتاب پر بچے اور واقعی اعتراضات وارد ہوتے ہیں سو اس غرض سے ماسٹر صاحب کو کہا گیا کہ اگر آپ کو مذہبی بحث کا کچھ شوق ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے لیکن مناسب ہے کہ دونوں فریق کے اصول کی حقیقت کھولنے کی غرض سے ہر دو فریق کی طرف سے سوالات پیش ہوں تا کوئی شخص جو ان سوالات و جوابات کو پڑھے اس کو دونوں مذہبوں کے جانچنے اور پر کھنے کے لئے موقعہ مل سکے چنانچہ بمنظوری جانبین اسی التزام سے بحث شروع ہوئی اول گیاراں مارچ ۱۸۸۶ء کی رات میں اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ماسٹر صاحب کی طرف سے ایک تحریری اعتراض شق القمر کے بارہ میں پیش ہوا اور پھر چودھویں مارچ ۱۸۸Yء کے دن میں اِس عاجز کی طرف۔