حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 38 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 38

حیات احمد ۳۸ جلد دوم حصہ اول 8 ہے۔اور خدا کے فضل سے یقین کرتا ہوں کہ عنقریب چھپ کر شائع ہو جائے گا۔آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقتِ قرآن جو آپ کے دل پر القاہوں میرے پاس بھیج دیں تا اس رسالہ میں حسب موقع اندراج پا جائے یا سفیر ہند میں۔لیکن جو براہین ( جیسے معجزات وغیرہ) زمانہ گزشتہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ان کا تحریر کرنا ضروری نہیں، کہ منقولات مخالف پر حجت قویہ نہیں آسکتیں۔جو نفس الامر میں خوبی اور عمدگی کتاب اللہ میں پائی جائے یا جو عند العقل اس کی ضرورت ہو وہ دکھلانی چاہئے۔بہر صورت میں اُس دن بہت خوش ہوں گا کہ جب میری نظر آپ کے مضمون پر پڑے گی۔آپ بمقتضا اس کے کہ الْكَرِيمُ إِذَا وَعَدَ وَفَا مضمون تحریر فرماویں۔لیکن یہ کوشش کریں کہ كَيْفَ مَا اتَّفَقَ مجھ کو اس سے اطلاع ہو جائے۔اور آخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ہم کو اور آپ کو جلد تر توفیق بخشے کہ منکر کتاب الہی کو دندان شکن جواب سے ملزم اور نادم کریں۔وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ‘ اس کے بعد ایک دوسرے خط مورشه ، ارمئی ۱۸۷۹ء میں تحریر فرماتے ہیں ” براہین احمدیہ ڈیڑھ سو جز ہے جس کی لاگت تخمینا نو سو چالیس روپیہ ہے۔اور آپ کی تحریر محققانہ لاحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی“۔ان تحریروں سے ایک بات تو یہ ثابت ہوتی ہے کہ مولوی صاحب مرحوم نے مرزا صاحب مرحوم کو براہین احمدیہ کی تالیف میں بعض مضامین سے مدد دی ہے“ (اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام حصہ دوم صفحه ۲۳ تا ۲۶ ایڈیشن اول مطبوعه ۱۹۱۰ء ) افسوس ہے کہ مولوی عبدالحق صاحب نے ان مکتو بات کو تمام و کمال درج نہیں کیا ور نہ من میں تھی کہ اُن کے اوپر کافی روشنی پڑتی۔جس قدر اقتباس مولوی صاحب نے دیا ہے اس سے یہ بات بخوبی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں کوئی علمی امداد مولوی چراغ علی صاحب نے نہیں دی۔مکتوب اول کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے براہین احمدیہ ایسی