حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 453 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 453

حیات احمد ۴۵۳ مجاہدہ چہل روزہ کے ثمرات جلد دوم حصہ سوم واقعات کی ترتیب اور تعلق سے معلوم ہوتا ہے کہ فروری ۱۸۸۶ء کے تیسرے ہفتہ کے زمانہ میں یہ مجاہدہ ختم ہو گیا تھا اس عرصہ میں آپ پر بشارات الہیہ کی تجلی ہوئی اور عظیم الشان بشارتیں آپ کو ملیں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہ مجاہدہ آپ نے رسالہ سراج منیر کے سلسلہ میں کیا ہے اس لئے کہ آپ اس رسالہ میں ان بشارات کو درج کرنا چاہتے تھے جو حضرت احدیت کی طرف سے پیشگوئیوں پر ر مشتمل ہوں۔چنانچه ۲۰ / فروری ۱۸۸۶ء کو آپ نے ایک اشتہار ” رسالہ سراج منیر مشتمل بر نشان ہائے رت قدیر“ کے عنوان سے لکھا اور یکم مارچ ۱۸۸۶ء کو اخبار ریاض ہند امرتسر میں بطور ضمیمہ شائع کرایا۔یہ اشتہار حضرت اقدس نے کتاب آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ دوبارہ ۱۸۹۳ء میں شائع کیا اور اس سے پہلے جدا گانہ بھی شائع ہوتا رہا۔یہ اشتہار حقیقت میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے بمنزلہ ایک بنیادی پتھر کے ہے اور یہ سفر ہوشیار پور تاریخ سلسلہ کا دراصل پہلا باب ہے۔ضمیمه اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است میری جان و دل محمد کے جمال پر فدا ہیں اور خاک آل محمد کے کوچے پر قربان ہے دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جلال محمد است میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا۔ہر جگہ محمد کے جلال کا شہرہ ہے ایں چشمہ رواں کہ مخلق خدا دہم یک قطره ز بحر کمال محمد است معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں یہ محمد کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے این آتشم ز آتش مہر محمدیست و ایس آب من ز آب زلال محمد است یہ میری آگ محمد کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمد کے مصفا پانی میں سے لیا ہوا ہے