حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 452
حیات احمد ۴۵۲ جلد دوم حصہ سوم وقت سے ان کے ذاتی تعلقات تھے اور یوں بھی دونوں خاندان چونکہ ایک اعلیٰ امتیاز کے مالک تھے باہم مراسم تھے۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے زمانہ تک نواب امام الدین کے خاندان کے ساتھ تعلقات محبت و یگانت برقرار تھے چنانچہ شیخ نصیر الدین صاحب مرحوم سے ایک قسم کا برادرانہ رنگ تھا اور ان کے بیٹے ریاض الدین صاحب کو بھی اپنے بچے ہی کی طرح سمجھتے تھے۔غرض دونوں خاندانوں میں باہم مراسم تھے۔اور شیخ مہر علی رئیس اعظم ہوشیار پور حضرت اقدس سے اخلاص و ارادت رکھتے تھے۔علاوہ اس ارادت کے وہ حضرت کے خاندان کی عظمت اور شوکت سے واقف ہونے کے سبب سے بھی اپنا فخر سمجھتے تھے کہ حضرت صاحب ان کے مکان پر قیام کریں۔حضرت نے ان کے مکان کو پسند کیا جہاں خلوت میسر تھی۔ابتدائی تین دن کے بعد حضرت نے پسند فرمایا کہ اپنے کھانے پینے اور ضروریات کا انتظام خود کریں یہ قدرتی بات ہے کہ شیخ صاحب یہ پسند نہ کرتے تھے مگر حضرت کی مرضی اور منشاء کے خلاف کرنا بھی انہیں ناگوار تھا۔اس قیام کے ایام میں دعوت کے موقعہ پر حضرت اپنے خدام کو اپنے ساتھ رکھتے اور ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تا کہ ان کے متعلق کسی شخص کو تحقیر کا خیال پیدا نہ ہو اپنے خدام کے ساتھ حضرت کا یہ سلوک آپ کی شان کو بلند کرنے والا تھا میں آپ کی سیرت میں اس پر لکھ چکا ہوں۔بقیہ حاشیہ۔میں تو سارا دن گھر میں رہتا تھا۔صرف جمعہ کے دن حضور کے ساتھ ہی باہر جاتا تھا اور شیخ حامد علی بھی اکثر گھر میں رہتا تھا۔لیکن فتح خان اکثر سارا دن ہی باہر رہتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے اغلب ہے کہ اس الہام کے وقت بھی وہ باہر ہی ہو۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ فتح خان ان دنوں میں اتنا معتقد تھا کہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ حضرت صاحب کو تو میں نبی سمجھتا ہوں۔اور میں اس بات پر پرانے معروف عقیدہ کی بناء پر گھبراتا تھا میاں عبداللہ صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو حضور نے فرمایا کہ مجھے خدا اس طرح مخاطب کرتا ہے اور مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر میں ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی ظاہر کروں تو یہ جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جاویں۔“ سیرت المہدی جلد ۱ صفحه ۶۲ تا ۶۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء)