حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 441 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 441

حیات احمد ۴۴۱ جلد دوم حصہ سوم ۱۸۸۵ء کے الہامات ۱۸۸۵ء کے الہامات یا کشوف بعض تو سلسلہ حالات میں آ گئے ہیں جو نہیں آئے ان کو یکجائی طور پر درج کر دیا جاتا ہے۔(۱) سرخ چھینٹوں کا نشان میں اس نشان کے متعلق اسی کتاب کے ص سا تم پر درج کر آیا ہوں مگر وہاں میں نے اس کو عینی گواہ حضرت منشی عبداللہ سنوری رضی اللہ عنہ کے بیان ہی کی صورت میں لکھا ہے۔اور تاریخ وقوع کو منشی صاحب کے بیان کے موافق ۱۸۸۴ء کے واقعات میں لکھا ہے یہاں میں خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا بیان درج کرتا ہوں جو آپ نے سرمہ چشم آریہ میں شائع کیا ہے آپ نے اس میں تاریخ نہیں بیان کی تذکرہ میں تاریخ حضرت منشی صاحب کی روایت کے موافق ۲۷ رمضان المبارک بروز جمعہ ۱۳۰۲ھ مطابق ۱۰ / جولائی ۱۸۸۵ء لکھا ہے۔لیکن ۱۰ جولائی کو ۲۶ رمضان تھی بہر حال تاریخ کے سوال سے الگ رہ کر یہ ۸۴ یا ۱۸۸۵ء کا واقعہ ہے واقعہ صحیح ہے۔اور حضرت اقدس فرماتے ہیں۔(۲) ۶ را پریل ۱۸۸۵ء آج اسی وقت میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ کسی ابتلا میں پڑا ہوں اور میں نے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے میں نے اس کو کہا۔کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے؟ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جل شانہ کے تصرف میں ہوں۔جہاں مجھ کو بٹھائے گا، بیٹھ جاؤں گا ، اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا۔کھڑا ہو جاؤں گا۔اور یہ الہام ہوا۔يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللَّهِ مِنَ الْعَرَبِ یعنی تیرے لئے ابدال شام کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں۔خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیوں کر اس کا ظہور ہو۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب “ از مکتوب مورخه ۱۶ اپریل ۱۸۸۵ء مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۸۶ مکتوبات احمد جلد اصفحہ ۲۰۸،۶۰۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس ایڈیشن کے صفحہ ۳۱۴ تا ۳۱۹ پر دیکھیں (ناشر)