حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 36
حیات احمد ۳۶ جلد دوم حصہ اوّل اس لحاظ سے کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کو پوری حقیقت معلوم ہو جاوے اور صحیح نتیجہ پر پہنچ سکیں میں مولوی عبد الحق صاحب کی اپنی تحریر کو یہاں درج کر دیتا ہوں اور بعض فقرات پر میں نے نمبر دے دیئے ہیں تا کہ قارئین کرام کو میرے پیش کردہ نتائج کے سمجھنے میں آسانی ہو۔نقل از اعظم الکلام فی ارتقاء الاسلام صفحه ۲۱) اس موقع پر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ جس وقت ہم مولوی صاحب مرحوم کے حالات کی جستجو میں تھے تو ہمیں مولوی صاحب کے کاغذات میں سے چند خطوط مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مرحوم کے بھی ملے جو انہوں نے مولوی صاحب کو لکھے تھے اور اپنی مشہور اور پر زور کتاب براہین احمدیہ کی تالیف میں مدد طلب کی تھی۔چنانچہ مرزا صاحب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ آپ کا افتخار نامه محبت آمود۔۔۔۔عـــز ورود لایا۔اگر چہ پہلے سے مجھ کو بہ نسبت الزام خصم اجتماع براہین قطعیہ اثبات نبوت و حقیقت قرآن شریف میں ایک عرصہ سے سرگرمی تھی مگر جناب کا ارشاد موجب گرم جوشی و باعث اشْتَعَلْ شُعْلَةُ حَمِيَّةِ إِسْلَامِ عَلَى صَاحِبِهِ السَّلام ہوا اور موجب از دیاد تقویت و توسیع حوصلہ خیال کیا گیا۔کہ جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی و د نیوی نہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دلی گرمی کا اظہار فرماوے بلا شائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہئے جَزَاكُمُ اللهُ نِعْمَ الْجَزَاءِ۔۔ما سوائے اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں۔ایک دوسرے خط میں تحریر فرماتے ہیں، آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا اس لئے آج مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید طیار کر کے میرے پاس بھیج دیں۔میں نے بھی ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا بَرَاهِيْنِ أَحْمَدِيَّهِ عَلَى حَقِّيَّةِ كِتَابِ اللَّهِ 3 1