حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 440 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 440

حیات احمد ۴۴۰ جلد دوم حصہ سوم ☆ چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بود تھے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقین بودے اور آپ کی وفات کے بعد خلیفتہ المسیح اول ہوئے۔اور جماعت نے متفق طور پر آپ کو اپنا امام اور مطاع تسلیم کیا۔آپ نے خط و کتابت کے آغاز کے ساتھ ہی قادیان آنے کی سعی کی اور قادیان تشریف لائے۔قادیان پہلی مرتبہ آنے کی کیفیت انہوں نے بارہا اپنے درس میں بیان کی ہے کہ میں بٹالہ سے یکه پر قادیان آیا اور یہ بان کو کہا کہ مرزا صاحب کے پاس لے چلو وہ مجھے مرزا امام الدین کے دیوان خانہ میں لے گیا جہاں وہ اپنی مجلس میں حقہ نوشی کر رہے تھے۔حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ اس کی شکل دیکھ کر مجھے اس قدر نفرت ہوئی کہ میں نے یکہ بان کو کہا ٹھہر وہم ابھی واپس جائیں گے اور دل میں انقباض و حیرت تھی کہ یہ وہ شخص نہیں ہوسکتا تاہم میں آگے بڑھا اور بلا تکلف بغیر سلام کے چار پائی پر بیٹھ گیا مرزا امام الدین نے مجھ سے دریافت کیا کیا نام ہے کہاں سے آئے ہو میرے بیان کرنے پر اس نے سمجھ لیا اور کہا کہ آپ شاید مرزا صاحب کو ملنے آئے ہیں اس طرح پر آپ کی وہ کلفت دور ہو گئی کہ یہاں اور بھی مرزا ہے۔غرض اس نے بتایا اور اپنے آدمی کے ذریعہ آپ کو مسجد مبارک میں پہنچا دیا اطلاع ہونے پر حضرت اقدس سے ملاقات ہوئی جس نے دل کو نو را ایمان سے بھر دیا۔چونکہ یہ سفر آپ نے لاہور کے ایک سفر میں ضمنی کیا تھا اس لئے دوسرے دن واپس ہو گئے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کو آپ کے آنے سے کس قدرخوشی ہوئی اور خود حضرت نورالدین کو اس ملاقات سے کس قدر فائدہ ہوا۔حضرت مولوی حسن علی نے آپ سے لاہور میں دریافت کیا کہ آپ کو بیعت سے کیا فائدہ ہوا تو ان کو جواب دیا گیا کہ ایک گناہ مجھ سے چھوٹ گیا جس کو میں چھوڑ نہ سکتا تھا۔آپ کا سلسلہ میں آنا حضرت اقدس کی قبولیت دعا کا ایک نشان ہے جس کی تفصیل آئینہ کمالات اسلام میں ہے۔کا ترجمہ۔کیا اچھا ہوتا اگر امت میں سے ہر ایک نور دین ہوتا۔یہی ہوتا اگر ہر دل نور یقین سے بھرا ہوتا۔