حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 437 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 437

حیات احمد ۴۳۷ جلد دوم حصہ سوم انوار دکھائی دیتے ہیں ) دکھاوے۔خاکسار غلام احمد ۱۸ مارچ ۱۸۸۵ء مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحہ ۱۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس جوابی مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حضرت اقدس کے دعوی کے متعلق استفسار کیا جو اس اردو انگریزی اشتہار میں کیا گیا تھا اس کے بعد آپ نے حضرت اقدس کو صادق یقین کیا اور رابطہ محبت اس مقام تک پہنچا کہ من تو شدم تو من شدی کا رنگ پیدا ہو گیا اور اس کمال اتحاد و اطاعت کاملہ نے آپ کو حضرت اقدس کا پہلا خلیفتہ امیج بنا دیا۔وہ قادیان میں کس طرح آئے اور سلسلہ کی خدمات میں ان کی قربانیوں اور اخلاص کا کیا مقام ہے یہ امور حیات نور سے تعلق رکھتے ہیں لیکن میں اس امر کے اظہار سے رُک نہیں سکتا کہ حضرت حکیم الامت کی آمد اور حضرت سے تعلق حضرت اقدس کی دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے۔اور اس طرح پر حضرت حکیم الامت آيَةٌ مِّنْ آيَاتِ اللهِ ہیں۔اس کیفیت کو خود حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام اڈیشن اول کے صفحہ ۵۸۳٫۵۸۱ وو (روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۸۱ تا ۵۸۳) میں بیان کیا ہے کہ (ترجمہ عربی عبارت ) ” جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا میں انصار الدین کیلئے دعاؤں میں مصروف تھا اور جب میری دعائیں انتہا کو پہنچ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے نورالدین عطا نوٹ:۔یہ پہلا خط ہے۔جو حضرت حکیم الامت کے نام مجھے ملا ہے قیاس چاہتا ہے اس سے پہلے بھی چند خطوط ہوں اس خط کا بھی اصل مسودہ نہیں ملا بلکہ حضرت حکیم الامت کی نوٹ بک سے لیا گیا اور ۳۱ را گست ۱۹۰۷ ء کے الحکم میں میں نے اسے شائع کر دیا تھا اس خط کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مسیح ناصری کے قدم پر مبعوث ، مامور ہونے کا دعوی مارچ ۱۸۸۵ء میں کر دیا تھا لیکن آپ نے بیعت کا اعلان اس وقت تک نہیں کیا۔جب تک صریح فرمان ربانی نازل نہیں ہو گیا ( عرفانی) ترجمہ۔میں تو ہو گیا اور تو میں ہو گیا۔