حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 436 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 436

حیات احمد ۴۳۶ جلد دوم حصہ سوم حضرت مولا نا حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ کی آمد اسی سال ۱۸۸۵ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مولانا حکیم نورالدین (خلیفہ امسیح اول ) رضی اللہ عنہ کو حضرت اقدس سے تعلق مراسلت ہوا۔حضرت مولانا بھیرہ کے ممتاز علم دوست خاندان کے ممتاز رکن تھے اور تمام علوم عربیہ دینیہ کے مسلم الثبوت ماہر اور مجتہدانہ رنگ رکھتے تھے۔قرآن مجید کے عاشق اور اس کے حقائق اور معارف کی اشاعت کے گرویدہ تھے جہاں تک میری تحقیقات کا ماحصل ہے آپ نے حضرت اقدس کا وہ اشتہار پڑھا۔(جس کا ذکر میں اندر من مراد آبادی کے واقعات میں کر آیا ہوں ) یہ اشتہار آپ کو کس طرح ملا ؟ میری اپنی تحقیقات میں یہ اشتہار آپ کو ایک بنگالی بابو کے ذریعہ جو اس وقت ریاست جموں میں نو کر تھا اور آپ کے پاس آمد و رفت رکھتا ( اور برہمو خیال کا تھا ) ملا۔اور اس نے بطور ایک عجوبہ کے پیش کیا آپ نے اسے پڑھ کر حضرت اقدس کی خدمت میں آپ کے دعوی کے متعلق ایک استفساری خط لکھا جس کا جواب حضرت اقدس نے حسب ذیل دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ماموریت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ یہ عاجز ( مؤلف براہین احمدیہ حضرت جَلَّ جَلالُہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی مسیح کی طرز پر کمال مسکینی اور فروتنی اور غربت اور تذلیل اور تواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہِ راست سے بیخبر ہیں صِرَاطِ مُسْتَقِیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے ) اور اسی عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے