حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 432
حیات احمد ۴۳۲ جلد دوم حصہ سوم جائے گی ہاں اگر کوئی اس قسم کی تکلیف ہو جس کو اس گاؤں میں ہم لوگ اٹھاتے ہیں اور اس کا دفع اور ازالہ ہماری طاقت اور استطاعت سے باہر ہے اس میں ہمارے مہمان ہماری حالت کے شریک رہیں گے اور اس بات کو آپ سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر ہرا ایک منصف سمجھ سکتا ہے کہ جس حالت میں ہم نے دوسو روپیہ ماہواری دینا قبول کیا اور اس کے ادا کے لئے ہر طرح تسلی بھی کر دی تو ہم نے اپنے اس فرض کو ادا کر دیا۔یا جو کسی کا پورا پورا ہر جہ دینے کے لئے ہمارے سر پر تھا۔رہا تجویز مکان و دیگر لوازم مہمانداری سو یہ زوائد ہیں جن کو ہم نے محض حسن اخلاق کے طور پر اپنے ذمہ آپ لے لیا ہے ورنہ ہر ایک با انصاف آدمی جانتا ہے کہ جس شخص کو پورا پورا ہرجہ اس کی حیثیت کے موافق بلکہ اس سے بڑھ کر دیا جائے تو پھر اور کوئی مطالبہ اس کا بیجا ہے۔اس کو تو خود مناسب ہے اگر زیادہ تر آرام پسند اور آسائش دوست ہے تو اپنی آسائش کے لئے آپ بندوبست کر لے۔جیسا اس حالت میں بندوبست کرتا کہ جب وہ دوسو روپیہ نقد کسی اور جگہ سے بطور نوکری پاتا۔غرض جس قدر علاوہ ادائے ہرجہ کے ہم سے کسی کی خدمت ہو جاوے۔اس میں تو ہمارا ممنون ہونا چاہئے کہ ہم نے علاوہ اصل شرط کے بطور مہمانوں کے اس کو رکھا نہ کہ الٹی نکتہ چینی کی جائے کیونکہ یہ تو تہذیب اور اخلاق اور انصاف سے بہت بعید ہے اور اس مقام میں مجھ کو ایک سخت تعجب یہ ہے کہ اگر ایسے شرائط جو آپ نے پیش کئے کوئی اور شخص کسی فرقہ مخالف کا پیش کرتا تو کچھ بعید نہ تھا مگر آپ لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کے خادم اور تابع کہلاتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کا دم مارتے ہیں۔سو یہ کیسی بھول کی بات ہے کہ آپ حضرت مسیح کی سیرت کو چھوڑے جاتے ہیں۔کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت مسیح ایک مسکین اور درویش طبع آدمی تھے۔جنہوں نے اپنے تمام زندگی میں کوئی اپنا گھر نہ بنایا اور کسی نوع کا اسباب عیش وعشرت اپنے لئے مہیا نہ کیا تو پھر آپ فرما دیں کہ آپ کو ان کی پیروی کرنا لازم ہے یا نہیں؟ جب تک آپ کی زندگی مسیح کی زندگی کا نمونہ نہ بنے تب تک آپ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ہم حضرت مسیح کے بچے پیرو ہیں۔سواب آپ غور کر لیں کہ یہ کس قدر نازیبا بات ہے کہ جو آپ پہلے ہی اپنی عیش وعشرت کے لئے مجھ سے شرطیں کر رہے ہیں۔آپ پر واضح ہو کہ یہ عاجز مسیح کی زندگی کے نمونہ پر چلتا ہے۔کسی باغ میں کوئی امیرانہ