حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 431
حیات احمد ۴۳۱ جلد دوم حصہ سوم قبل از انفصال اس امر کے جس کے لئے بحالت مغلوب ہونے کے روپیہ دینے کا اقرار ہے آپ کو نہیں مل سکتا۔ہاں البتہ یہ روپیہ آپ کی تسلی اور اطمینان قلبی کے لئے بنک سرکاری میں جمع ہوسکتا ہے یا کسی مہا جن کے پاس رکھا جا سکتا ہے۔غرض جس طرح چاہیں روپیہ کی بابت ہم آپ کی تسلی کرا سکتے ہیں لیکن آپ کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے اور یہ بات سچ اور قریب انصاف بھی ہے کہ جب تک فریقین میں جو امر متنازعہ فیہ ہے وہ تصفیہ نہ پا جائے تب تک روپیہ کسی ثالث کے ہاتھ میں رہنا چاہئے۔امید ہے کہ آپ جو طالب حق ہیں اس بات کو سمجھ جائیں گے اور اس کے برخلاف اصرار نہیں کریں گے۔اور جو اسی شرط کے دوسرے حصہ میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ اگر مکان وغیرہ کے بارے میں کسی نوع کی ہم کو وقت پہنچی تو ہم فوراً گوجرانوالہ میں آویں گے اور جو روپیہ جمع کرایا گیا ہے ہمارا ہو جائے گا۔یہ شرط آپ کی بھی ایسی وسیع التاویل ہے کہ ایک بہانہ جو آدمی کو اس سے بہت گنجائش مل سکتی ہے کیونکہ مکان بلکہ ہر ایک چیز میں نکتہ چینی کرنا بہت آسان ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ کی آب و ہوا ہم کو مخالف ہے، ہم بیمار ہو گئے ، مکان میں بہت گرمی ہے، فلاں چیز ہم کو وقت پر نہیں ملتی ، فلاں فلاں ضروری چیزوں سے مکان خالی ہے وغیرہ وغیرہ۔اب ایسی ایسی نکتہ چینیوں کا کہاں تک تدارک کیا جائے گا سو اس بات کا انتظام اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ ایک دو دن کے لئے خود قادیان میں آ کر مکان کو دیکھ بھال لیں اور اپنے ضروریات کا بالمواجہ تذکرہ اور تصفیہ کر لیں تا جہاں تک مجھ سے بن پڑے آپ کی خواہشوں کے پورا کرنے کے لئے کوشش کروں اور پھر بعد میں نکتہ چینی کی گنجائش نہ رہے۔ماسوا اس کے یہ عاجز تو اس بات کا ہرگز دعویٰ نہیں کرتا کہ کسی کو اپنے مکان میں فروکش کر کے جو کچھ نفس امارہ اُس کا اسباب عیش و تنختم مانگتا جاوے وہ سب اس کے لئے مہیا کرتا جاؤں گا۔بلکہ اس خاکسار کا یہ عہد واقرار ہے کہ جو صاحب اس عاجز کے پاس آئیں ان کو اپنے مکان میں سے اچھا مکان اور اپنی خوراک کے موافق خوراک دی جائے گی۔اور جس طرح ایک عزیز اور پیارے مہمان کی حتی الوسع خدمت و تواضع کرنی چاہئے اُسی طرح ان کی بھی کی جائے گی۔اپنی طاقت اور استطاعت کے موافق برتاؤ اور معاملہ ہوگا۔اور اپنے نفس سے زیادہ اکل و شرب میں ان کی رعایت رکھی