حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 412
حیات احمد ۴۱۲ جلد دوم حصہ سوم روپیہ نقد ایک جماعت اہلِ اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔وہاں سے ان کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام وہ خط روانہ کیا تھا اسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں۔باوجودیکہ اس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریر کیا تھا یہ امر نہایت تعجب اور تردد کا موجب ہوا۔لہذا یہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اس کی ایک کا پی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موجودہ بذریعہ رجسٹری روانہ کی جاوے۔وہ یہ ہے:۔مشفقی اندر من صاحب ! آپ نے میرے خط کا جواب نہیں دیا ایک نئی بات لکھی ہے۔جس کی تعمیل مجھ پر اپنے عہد کی رو سے واجب نہیں ہے۔میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرا دے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔آپ اس کے جواب میں اول تو مجھے اپنے پاس (نابھہ میں پھر لاہور میں ) بلاتے ہیں اور خود آنے کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں تو مباحثہ کے لئے نہ آسمانی نشان دیکھنے کے لئے۔اس پر طرفہ یہ ہے کہ روپیہ اشتہار پیشگی طلب فرماتے ہیں جس کا میں نے پہلے وعدہ نہیں دیا۔اب آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری تحریر سے آپ کا جواب کہاں تک متفاوت و متجاوز ہے۔بہ میں تفاوت راه از کجاست تا به کجا لہذا میں اپنے اسی پہلے اقرار کی رو سے پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ ایک سال رہ کر آسمانی نشانوں کا مشاہدہ فرما دیں اگر بالفرض کسی آسمانی نشان کا آپ کو مشاہدہ نہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سو روپیہ دے دوں گا اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر اصرار ہو تو مجھ کو اس سے بھی دریغ نہیں بلکہ آپ کے اطمینان کے لئے سردست چوبیس سو روپیہ نقد ہمراہ رقیمہ ہذا ارسال خدمت ہے۔مگر چونکہ آپ نے یہ ایک امرزائد چاہا ہے اس لئے مجھے بھی حق پیدا ہو گیا ہے کہ میں اس امرزائد کے