حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 33
حیات احمد ۳۳ جلد دوم حصہ اوّل کچھ زیادہ ہوگی اور تا اختتام وقتا فوقتا حواشی لکھنے سے اور بھی بڑھ جائے گی۔“ اس اقتباس سے جو خود حضور کے اعلان سے لیا گیا ہے معلوم ہوتا کہ حواشی بعد میں لکھے جاتے تھے لیکن اس میں بھی اتنا بتا دینا ضروری ہے کہ مستقل حواشی آپ ساتھ ہی لکھ دیتے تھے۔چھوٹے چھوٹے نوٹ یا حاشیہ آپ آخری پروف تک اضافہ کرتے رہتے تھے۔براہین احمدیہ کی طباعت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ حواشی تصنیف کے وقت ہی لکھے گئے تھے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ مسودہ صاف کرنے کے وقت لکھے گئے ہوں اس لئے کہ حواشی کا مضمون اس قدر مسلسل اور مربوط اور طویل ہے کہ وہ بجائے خود ایک مستقل تصنیف ہے اس لئے میری تحقیق یہی ہے کہ جب براہین کا مسودہ کا تب کو دیا گیا تو وہ اسی صورت میں دیا گیا۔اس میں کوئی اختلاف واقع نہیں ہوسکتا کہ متن پہلے لکھ دیا ہو اور حواشی کو صاف کرتے وقت ساتھ اضافہ کر دیا گیا۔اسی سلسلہ میں ایک اور امر بھی میں پیش کر دینا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ براہینِ احمدیہ کے اندر بعض واقعات کی تاریخیں دی ہوئی ہیں یا یوں کہو کہ بعض امور بقید تاریخ بیان کئے گئے ہیں اس سے لازماً ہم کو یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ وہ مقام جہاں کسی واقعہ کو تاریخ کے ساتھ بیان کیا ہے اس تاریخ سے پہلے نہیں لکھا گیا۔میں مثال کے طور پر چند مقامات کا حوالہ دے دینا ضروری سمجھتا ہوں۔اول براہین احمدیہ حصہ سوم کے صفحہ ۲۳۸ بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر میں لکھتے ہیں کہ: اس الہام کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں لیکن وہ جو ابھی اس حاشیہ کی تحریر کے وقت یعنی ۱۸۸۲ء میں ہوا ہے۔جس میں یہ امر غیبی بطور پیشینگوئی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس اشتہاری کتاب کے ذریعہ سے اور اس کے مضامین پر مطلع ہونے سے انجام کار مخالفین کو شکست فاش آئے گی۔الخ۔“ یہ حاشیہ در حاشیہ صفحہ ۲۱۷ سے صفحہ ۲۶۷ تک چلا گیا ہے۔کم از کم اس مقام کی تحریر کی تاریخ مہینے کے لحاظ سے مارچ ۱۸۸۲ء ہے۔