حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 410
حیات احمد ۴۱۰ جلد دوم حصہ سوم کہ ان کی تالیفات پر مقدمہ چلایا گیا اور اس مقدمہ کی پیروی کے لئے ہر قسم کی قانونی امداد اور مالی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے بھی ہر قسم کی تحریکات قومی امداد کے رنگ میں ہوتی رہیں اور منشی اندر من صاحب کے لئے تو گویا بتی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔خوب روپیہ آنے لگا اور منشی جی کی پانچوں گھی میں تھیں۔یہ ساری داستان جیون چرتر کلاں میں تفصیل سے درج ہے مجھے اگر طوالت کا خوف نہ ہوتا تو میں ان اقتباسات کو یہاں درج کرتا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ شری سوامی جی اور آریہ سماج نے اس وقت اس شخص کی کس قدر امداد کی۔لیکن اس شخص نے اپنی بدفطرتی کا ثبوت دیا کہ ایسے محسن کے خلاف بھی قلم اٹھایا اور اپنی گندہ زبانی سے محسن کشی کا شرمناک مظاہرہ کیا اور نہایت سختی سے زہر اگلا جس نے قدرتی طور پر شری سوامی جی کو قلبی دکھ دیا۔سوامی جی کے جو خطوط اور اشتہارات شائع ہوئے ہیں ان کے ضمن میں اس معاملہ پر آپ نے آریہ سماج مراد آباد کے سیکرٹری لالہ کالی چرن کو لکھا، اس سے اس قلبی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔' آپ کو معلوم ہی ہے کہ اندرمن نے احسان کا بدلہ کیسا بُرا دیا ہے اب دیکھو تو ایسے ایسے نامی انسان کی یہ حالت ہو تو عوام کا کیا کہنا۔(۱۶ / جون ۱۸۸۲ ء از بمبئی) اسی طرح ایک اور خط میں لالہ شیام سند رکو لکھا۔کہ :۔مراد۔دو منشی اندرمن جی اور لالہ جگن ناتھ سماج میں رہنے کے قابل نہیں ہیں۔۔آباد کے بہت سے رئیسوں نے پہلے ہی مجھے کہا تھا کہ آپ منشی اندرمن جی کو جیسا خیال کرتے ہیں ، وہ ویسا نہیں ہے۔ان کا کہنا سچ ثابت ہوا میں نے اپنے وصیت نامہ سے ان کا نام خارج کر دیا ہے۔الخ اور جب مراد آبادی استاد شاگرد کا پرو پیگنڈہ شری سوامی جی کے خلاف تیز سے تیز تر ہو گیا تو اس سے آپ کے اندر بھی ان کے خلاف غیض و غضب پیدا ہوا اور آپ نے لالہ کا لی چون سیکرٹری آریہ سماج مراد آباد کو بمبئی سے خط بھیجا کہ ہمارے خلاف رسالہ ہے۔