حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 404
حیات احمد ۴۰۴ جلد دوم حصہ سوم نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیان میں تشریف لاویں۔اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر ان آسمانی نشانوں کا بچشم خود مشاہدہ کر لیں و لیکن اس شرط نیت سے (جو طلب صادق کی نشانی ہے ) کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ ( قادیان میں ) شرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جائیں گے اس شرط نیت سے آپ آویں گے تو ضرور انشاء اللہ تعالیٰ آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے۔اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہو چکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں اب آپ تشریف نہ لائیں تو آپ پر خدا کا مواخذہ رہا۔اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب ہوگا۔اور اگر آپ آویں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دوسو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا اس دوسو روپیہ ماہوار کو آپ اپنے شایان شان نہ سمجھیں تو اپنے حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے ہم اس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔طالبان حرجانہ یا جرمانہ کے لئے ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کریں اور جو لوگ حرجانہ یا جرمانہ کے طالب نہیں ان کو اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ بذات خود تشریف نہ لاسکیں تو آپ اپنا وکیل جس کے مشاہدہ کو آپ معتبر اور اپنا مشاہدہ سمجھیں روانہ فرما دیں مگر اس شرط سے کہ بعد مشاہدہ اس شخص کے آپ اظہار اسلام یا ( تصدیق و خوارق میں) توقف نہ فرمائیں آپ اپنے شرط اظہار اسلام یا ( تصدیق خوارق ) ایک سادہ کاغذ پر جس پر چند ثقات مختلف مذاہب کی شہادتیں ہوں تحریر کر دیں جس کو متعدد اردو انگریزی اخباروں میں شائع کیا جائے گا۔ہم سے اپنی شرط دو سو روپیہ ماہوار جرمانہ یا حرجانہ (یا جو آپ پسند کریں۔اور ہم ہ یہ ان حضرات نیچر یہ مولوی صاحبوں کو کہا جاتا ہے۔جو اسلام کو مانتے ہیں اور پھر وجود خوارق و کرامات سے منکر اور اس عاجز پر بدظن ہیں۔