حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 32
حیات احمد ۳۲ جلد دوم حصہ اوّل اس کا ذکر کیا جاتا سو اس امر کے اظہار کے لئے میں براہین احمدیہ حصہ پنجم کے لکھنے کے وقت جس کو در حقیقت اس کتاب کا نیا جنم کہنا چاہئے اس حصہ کا نام نصرة الحق بھی رکھ دیا تھا تا وہ نام ہمیشہ کے لئے اس بات کا نشان ہو کہ باوجود صد ہا عوالق اور ذرائع کے محض خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اس حصہ کو خلعت وجود بخشا۔چنانچہ اس حصہ کے ٹائیٹل ورق کے ہر صفحہ کے سر پر نصرۃ الحق لکھا گیا۔مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصہ طبع ہو چکے ہیں بعد اس کے ہر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا“ پہلے پچاس حصہ لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا“ (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۷۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۹،۸) اس صفحہ میں وجہ التوا بھی بیان کی ہے کہ التوا اس لئے رہا کہ براہین کی مندرجہ پیشگوئیاں پوری ہو جاویں بہر حال یہ کتابیں ظاہر کرتی ہیں کہ آپ ایک بار مسودہ لکھ کر رکھ نہیں لیتے تھے ہاں یہ طریق تھا کہ بعض اوقات کوئی مضمون قلب پر گزرا اس کو نوٹ کر کے رکھ لیا۔براہین احمدیہ پنجم کا متن صرف ۵۶ صفحات تک لکھا گیا۔لیکن اس کے ضمیمے ۲۲۵ صفحہ تک چلے گئے۔اور خاتمہ میں صرف مقاصد اور خاتمہ کی ترتیب کی تفصیل لکھی جاسکی۔غرض آپ کا طریق عمل یہی تھا۔بار این اگر براہین احمدیہ کا مسودہ مکمل آپ نے پہلے لکھدیا جو بعد میں کسی وجہ سے جل گیا تو اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں۔حواشی کے متعلق حضرت اقدس کا صاف ارشاد موجود ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ایام طباعت میں لکھے جائیں گے جیسا کہ آپ نے اعلان مندرجہ ٹائیٹل براہین احمدیہ جلد اول ۱۸۸۰ء مطبوعه سفیر ہند میں لکھا ہے کہ :۔کتاب هذا بڑی مبسوط کتاب ہے یہاں تک کہ جس کی ضخامت سو جزو سے