حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 400
حیات احمد ۴۰۰ جلد دوم حصہ سوم اللہ تعالیٰ معاف کرے اور ستاری سے کام لے۔یہ واقعہ ضمناً آ گیا میں مولوی نجف علی صاحب کا تعارف کرا رہا تھا یہ اہلحدیث نوجوان تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے زیر اثر تھے سلسلہ بیعت تک قائم رہے بعد میں مسیح موعود کے دعویٰ کے وقت جب مولوی محمد حسین بٹالوی نے مخالفت کے لئے اقدام کیا تو اُسی رو میں بہہ گئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے شہر جلالپور جٹاں سے بعض مخلص اور جان نثار بز رگ سلسلہ کو دے دیئے ، ان میں مستری محمد عمر صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت صوفی محمد علی صاحب رضی اللہ عنہ تو صاحب کشف و الہام تھے اور انہوں نے صوفی محمد رفیع پنشنر ڈی۔ایں۔پی جیسے سپوت کو اپنی یادگار چھوڑا جس کا خاندان اپنے اخلاص میں امتیازی درجہ رکھتا ہے۔اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ بہر حال حضرت نے اس دعوت یکسالہ کے لئے ایک مکتوب اور ایک اشتہار شائع کرنے کا عزم فرمایا اگر چہ مِنْ وَ جُہ آپ اس کا ذکر براہین میں بھی کر چکے تھے جیسا کہ میں حیات احمد میں پہلے بھی ذکر کر آیا ہوں مگر وہ ضمناً برکات وثمرات اسلام میں ذکر تھا اب مستقل طور پر آپ نے اس دعوتِ خاص کا اعلان کیا چنانچہ ۸/ مارچ ۱۸۸۵ء کو وہ مکتوب دعوت مع اشتہار ماموریت شائع کر دیا گیا۔ضروری خطوط یہ خط مطبع مرتضائی لاہور میں طبع ہوا تھا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کے ذریعہ طبع ہوا تھا اور حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کو چھپوا کر لانے کے لئے بھیجا گیا تھا اس سلسلہ کی تکمیل کے لئے اوّلاً ان خطوط کو درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو مولوی محمد حسین بٹالوی اور حضرت منشی عبداللہ کو لکھے تھے۔دستی خط بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اس وقت لاہور میں رہتے تھے )