حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 390
حیات احمد ۳۹۰ جلد دوم حصہ سوم براہین کی تیاری میں یہاں ایک اور امر کا بھی ضمناً ذکر کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ براہین احمدیہ کی چوتھی جلد آغاز ۱۸۸۳ء میں ہی چھپ کر تیار ہوگئی تھی البتہ اتنا ہوتا تھا کہ اس کی جز بندی وغیرہ ساتھ ساتھ ہو رہی تھی۔براہین احمدیہ کا پرنٹر شیخ نور احمد صاحب مرحوم ان ایام میں بخارا گیا ہوا تھا۔اور منشی محمد حسین مراد آبادی ریاض ہند پریس کے مینجر تھے۔وہ ایک بلند پایہ کے خوشنویس بھی تھے چنانچہ براہین احمدیہ کی لوح ( ٹائیٹل پیج ) انہوں نے ہی تیار کیا تھا۔اسی سلسلہ میں ان کو حضرت اقدس کے روحانی کمال کا علم ہوا۔اور اخلاص پیدا ہوا اور آخری عمر تک وہ اس اخلاص میں ترقی کرتے گئے عجیب بات یہ ہے کہ مسیحیت و مہدویت کے دعوی کا آغاز جس رسالہ (فتح اسلام) سے ہوا اس کی کتابت کی عزت وسعادت بھی اُن کے حصہ میں آئی براہین کی طبع واشاعت کے آخری مرحلہ میں یہ امر پیش آیا تھا کہ اکثر پتھروں پر کا پیاں لگا کر ضرورت کے موافق تیار ہوتی رہتی تھیں۔مگر یہ آخر میں آ کر ہوا۔مخالفت کے سلسلہ میں علماء کی چالیں مخالفت کے سلسلہ میں علماء نے جو رنگ ابتداء اختیار کیا وہ تو یہ تھا کہ آپ کے خلاف فتویٰ کفر حاصل کریں جب اس میں کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو انہوں نے ایک ذلیل علمی حملہ تجویز کیا تا کہ ایسے اعتراض کریں جس سے حضرت اقدس ہی کے علم و قابلیت پر حملہ نہ ہو بلکہ یہ بھی ظاہر کیا جاوے کہ جو الہامات آپ خدا کی طرف سے پیش کرتے ہیں وہ ان کے مجوزہ قواعد ولغت کے لحاظ سے معیار پر پورے نہیں اترتے۔اس قسم کے حملے ہمیشہ انبیاء و مامورین کے مخالفین نے اپنی علمی پردہ دری کے لئے کئے ہیں اور اخلاق کے ادنی معیار کے لوگ اپنے حریف کی زبان یا اسلوب بیان پر نقطہ چینی کر کے اپنی کمزوری کا آپ اشتہار دیتے ہیں۔