حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 388 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 388

حیات احمد ۳۸۸ جلد دوم حصہ سوم کرتے اور قادیان سے بعض اوقات ان کو کسی ضروری کام کے لئے بلا تکلف لکھ دیتے تھے چنانچہ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کی مہر بنوائی گئی تو یہ بھی اُن کی ہی معرفت بنوائی گئی تھی اور کبھی حکیم صاحب موصوف کو کسی کے لئے سپارش بھی کر دیتے تھے۔چنانچہ حکیم مولوی قطب الدین صاحب ساکن بدوملہی نے طبی تعلیم اور تجربہ کے لئے سپارش چاہی تو آپ نے سپارش کر دی غرض حکیم صاحب موصوف کے آپ سے تعلقات ایک دوستانہ اور مخلصانہ انداز رکھتے تھے اس مرتبہ بھی آپ نے امرتسر جا کر ان کے پاس ہی قیام کیا۔ایسے موقع پر آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ اپنے مخلص احباب کو جن کے ساتھ خط و کتابت کی کثرت ہوتی تھی اپنے سفر اور مقام سفر اور قیام سفر کی اطلاع دے دیا کرتے تھے تا کہ مراسلات ضرور یہ میں دیر نہ ہو اس مرتبہ آپ کا قیام امرتسر میں ایک ہفتہ سے زائد رہا ۱۳ / فروری ۱۸۸۲ء کو آپ روانہ ہوئے اور غالبا ۲۴ / فروری ۱۸۸۴ء تک آپ نے قیام فرمایا کتابوں کی روانگی کا سلسلہ بھی بدستور امرتسر میں جاری رہا اور بشارت کا سلسلہ بھی جاری رہا دیکھ صفحہ پر) لودہانہ کے ان علماء کی مخالفت کا راز مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ نے انہی ایام میں اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں کھول دیا تھا اور کسی مخالف کو اس کی تردید کی قدرت نہ ہوئی جیسا کہ میں نے نمبر دوم کے ص ۱۷-۱۸ میں بیان کیا ہے یہ مولوی صاحبان دیو بند اور گنگوہ بھی فتویٰ تکفیر لے گئے تھے وہاں کامیابی نہ ہوئی۔پھر علماء دہلی سے مدد چاہی وہاں بھی کامیابی نہ ہوئی چونکہ ایک طوفان مخالفت اٹھ رہا تھا اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت آپ کو ان بشارتوں کے نزول سے مطمئن کر دیا۔اس سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ پر فتویٰ کفر کی ابتدا ۱۸۸۳ء کے آخر ۱۸۸۴ء کے اوائل میں ہوئی۔۱۸۸۴ء کی اہمیت میں پہلے بھی لکھ آیا تھا کہ ۱۸۸۴ ء کا سال سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سوانح حیات میں ایک انقلاب آفرین سال تھا۔براہین احمدیہ کی چاروں جلدوں کی تکمیل اسی سال میں ہوئی اور آئندہ کے لئے براہین کے متعلق آپ کو موسیٰ ابنِ عمران (علیہ السلام ) موجودہ سیٹنگ میں صفحہ نمبر ۲۹۸