حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 380 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 380

حیات احمد ۳۸۰ جلد دوم حصہ سوم کاسہ لیسی آریوں نے کی۔اگر چہ ان میں بعض شریف الطبع اور سنجیدہ مزاج لوگ بھی تھے۔جو اس قسم کی ذہنیت کو پسند نہ کرتے تھے۔برہم سماج کے لوگ براہ راست آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم پر کوئی حملہ نہ کرتے تھے۔بلکہ وہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک مہا پُرش یقین کرتے تھے اور قرآن کریم کی تعلیم کا احترام کرتے تھے وہ نفس مکالمہ الہی کے منکر تھے۔چنانچہ اس موضوع پر آپ نے بڑی تفصیل سے براہین احمدیہ میں بحث کی ہے۔آریوں کے حملے ود یا پر کا شک امرتسر آریہ در پکن شاہ جہانپور وغیرہ ماہواری رسائل اور اخبار آفتاب پنجاب میں شائع شدہ مضامین میں ہوتے اور آپ ان کے جوابات شائع کرتے۔یہ سلسلہ ۱۸۷۹ء تک جاری رہا تب آپ نے اعلام الہی سے براہین احمدیہ کی اشاعت کا اعلان کیا اور اس کے چار حصے شائع ہو چکے تھے کہ تجلیات الهیه نے حضرت موسی عمران کے رنگ میں آپ کو بہت بڑے کام کے لئے برگزیدہ فرمایا اور اس عظیم الشان مقصد کی تکمیل کے سامانوں میں آپ کی یہ مبشر اور موعود شادی بھی تھی۔آپ کی اہلی زندگی پر آپ کی سیرت اور سیرت ام المومنین (مصنفہ محمود احمد عرفانی مرحوم) میں بحث ہو چکی ہے۔اور شاید پھر کسی دوسرے موقعہ پر اس کی مزید صراحت ہو۔میں نے بتایا ہے کہ اس وقت تک آپ اسلام کے حملہ آوروں کے مقابلہ میں ایک دفاعی سپہ سالار کی حیثیت سے کھڑے تھے لیکن آپ کے دفاع کا طریق بجائے خود ایسا تھا کہ نہ صرف حملہ کا جواب ہوتا تھا بلکہ اس میں ایک صورت اقدام بھی تھی۔اگر چہ اس پر تفصیل سے بحث آپ کے علم کلام میں ہو گی مگر مختصراً یہاں اتنا ہی بیان کر جاتا ہوں کہ آپ نے ان حملہ آوروں کے سامنے ایک اصل پیش کیا کہ دوسروں پر حملہ کرنا تو خوبی کی بات نہیں بہتر ہے حقائق تعلیم و تاثیرات تعلیم میں مقابلہ کیا جاوے اور یہ مقابلہ محدود ہو اپنی اپنی مسلمہ الہامی کتاب تک یعنی جو دعوی پیش کیا جاوے اُسی میں سے ہو اور دلائل بھی اُسی میں سے۔یہ اصل ایسا صاف دل نشین اور عام فہم تھا کہ کوئی سلیم الفطرت انسان اس سے انکار نہیں کر سکتا