حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 365 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 365

حیات احمد ۳۶۵ جلد دوم حصہ سوم سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا۔اس سے زیادہ تشریح نہیں فرمائی مگر میں نے اس خاندانی تذکرے میں یہ بتلایا ہے کہ کس طرح مغل بادشاہ خواجہ میر درد کے بزرگوں کی عزت کرتے تھے کس طرح قلعہ دہلی میں ان کو دعوتیں ہوئی تھیں۔مغلیہ بادشاہوں نے اپنی لڑکیاں ان کے لڑکوں کو دیں اور پھر بڑے بڑے عہدے ان کو دیئے ان میں سے بعض بڑے خطاب یافتہ تھے ان میں سے نواب بھی تھے ہفت ہزاری تھے فوج اور سول کے عہدہ دار تھے پھر یہی نہیں۔کہ خواجہ میر درد کے گھرانے کا یہ حال تھا بلکہ نواب خاں دوران خاں جو حضرت میر ناصر نواب صاحب کے پردادا تھے وہ اتنی شخصیت کے آدمی تھے کہ روسی میجر جنرل سیولوف ان کے متعلق لکھتا ہے کہ :۔" وہ ہندوستان کے خود مختار حاکم تھے“۔ان کا ایک بیٹا وزیر اعظم تھا دوسرا بیٹا بھی فوج میں افسر تھا اور بھائی بھی فوج میں میر آتش یعنی افسر بارود خانہ تھا۔ان کے ماموں امیر الامراء عزیز میرزا کوکلتاش کمانڈر انچیف افواج ہند تھے وہ لوگ صاحب جاگیر بھی تھے ان کے پاس اپنی ذاتی فوجیں بھی تھیں۔دولت۔شوکت۔حکومت سب کچھ تھا اور وہ اپنے حسب نسب کے لحاظ سے اور اپنے تقوی طہارت کے لحاظ سے ممتاز تھے۔وہ مرجع خلائق بنے ہوئے تھے۔بادشاہ۔وزراء۔اُدباء۔شُعراء۔علماء سب ان کی مجلسوں میں مؤدب بیٹھا کرتے تھے ہندوستان میں ان میں سے بعض اپنے وقت میں ایسے تھے کہ بادشاہ ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے تھے۔یہ وہ لوگ تھے اگر چاہتے تو آخری زمانہ میں اپنی سلطنتیں قائم کر لیتے۔الغرض میں نے اس خاندان کی ساری اور مفصل تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کی تشریح کے لئے لکھی تا خدا کے مامور ومرسل اور نبی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نوشتے واقعات سے سچے ثابت ہوں۔