حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 364 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 364

حیات احمد ۳۶۴ جلد دوم حصہ سوم سے نہایت خوش ہوئے اس لئے حکم جہان مطاع عالم مطیع نے صدور کا شرف حاصل کیا ہے۔کہ اس اخلاص نشان کو ہفت ہزاری امراء کی سلک میں منضبط کر کے اور جگہ دے کر عضدالدولہ کے خطاب سے مفتخر اور ممتاز کیا جاتا ہے۔چاہئے۔کہ اب فیروزی اثر میں اپنے آپ کو موجود اور حاضر کریں اور ہمیشہ عرش آشیانی کی درگاہ کے بندوں کی وفا کیشی اور خیر اندیشی میں مصروف اور ساعی رہیں۔(۱۹ر ماه شوال ۴ جلوس) شه یہ مختصر بیان جو میں نے سیرت ام المومنین سے لیا ہے۔بقول عزیز مکرم محمود احمد عرفانی مرحوم دراصل یہ سارا بیان تفسیر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چند فقروں کی۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔اور الہامات میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ وہ قوم کے شریف اور عالی خاندان ہوں گے چنانچہ ایک الہام میں تھا کہ خدا نے تمہیں اچھے خاندان میں پیدا کیا اور پھر ا چھے خاندان سے دامادی کا تعلق بخش بغیر ظاہری تلاش اور محنت کے محض خدا تعالیٰ کی طرف سے تقریب نکل آئی۔یعنی نہایت نجیب اور شریف عالی نسب۔۔۔ایسے بزرگوار خاندان سادات سے یہ تعلق قرابت اس عاجز کو پیدا ہوا۔“ ( شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۸۴،۳۸۳) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خاندان کی نجابت۔شرافت ، عالی نسبی اور بزرگواری کی کوئی تفصیل نہیں دی البتہ اس قدر لکھا ہے کہ یہ خاندان خواجہ میر درد صاحب مرحوم دہلوی کے روشن خاندان کی یادگار ہیں جن کی علو خاندانی دیکھ کر بعض نوابوں نے انہیں اپنی لڑکیاں دی تھیں۔جیسے نواب امین الدین خاں والد بزرگوار نواب علاؤ الدین خاں والی ریاست لوہارو کی لڑکی میر ناصر نواب صاحب نحسر اِس عاجز کے بڑے بھائی کو بیاہی گئی ایسے بزرگوار خاندان