حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 28
حیات احمد ۲۸ جلد دوم حصہ اول یہ ہو گیا کہ جب مئی ۱۸۸۱ء کے مہینہ میں کچھ سرمایہ جمع ہونے کے بعد سفیر ہند امرتسر میں اجزاء کتاب کے چھپنے کے لئے دئے گئے۔اور اُمید تھی کہ غائت کا ردوماہ میں حصہ سوم چھپ کر شائع ہو جائے گا لیکن تقدیری اتفاقوں سے جن میں انسان ضعیف البنیان کی کچھ پیش نہیں جا سکتی۔مہتمم صاحب مطبع سفیر ہند طرح طرح کی ناگہانی آفات اور مجبور یوں میں مبتلا ہو گئے۔جن مجبور یوں کی وجہ سے ایک مدت دراز تک مطبع بند رہا۔چونکہ یہ تو قف اُن کے اختیار سے باہر تھی اس لئے اُن کی قائمی جمعیت تک برداشت سے انتظار کرنا مقتضاء انسانیت تھا۔سوالحمد للہ کہ بعد ایک مدت کے اُن کے موانع کچھ رو بصحت ہو گئے اور اب کچھ تھوڑے عرصہ سے حصہ سوم کا چھپنا شروع ہو گیا لیکن چونکہ اس حصہ کے چھپنے میں بوجہ موانع مذکورہ بالا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔اس لئے ہم نے بڑے افسوس کے ساتھ اس بات کو قرین مصلحت سمجھا کہ اس حصہ کے مکمل طور پر چھپنے کا انتظار نہ کیا جائے۔اور جس قدر اب تک چھپ چکا ہے وہی خریداروں کی خدمت میں بھیجا جاوے۔تا اُن کی تسلی و تشقی کا موجب ہو اور جو کچھ اس حصہ میں سے باقی رہ گیا ہے وہ انشاء اللہ القدیر چہارم حصہ کے ساتھ جو ایک بڑا حصہ ہے چھپوا دیا جائے گا۔شاید ہم بعض دوستوں کی نظر میں اس وجہ سے قابل اعتراض ٹھہریں کہ ایسے مطبع میں جس میں ہر دفعہ لمبی لمبی توقف پڑتی ہے کیوں کتاب کا چھپوانا تجویز کیا گیا سو اس اعتراض کا جواب ابھی عرض کیا گیا ہے کہ یہ مہتم مطبع کی طرف سے لاچاری تو قف ہے نہ اختیاری اور وہ ہمارے نزدیک ان مجبوریوں کی حالت میں قابلِ رحم ہیں نہ قابل الزام۔ماسوائے اس کے مطبع سفیر ہند کے مہتمم صاحب میں ایک عمدہ خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت صحت اور صفائی اور محنت اور کوشش سے کام کرتے ہیں اور اپنی خدمت کو عرق ریزی اور جانفشانی سے انجام دیتے ہیں۔یہ پادری صاحب ہیں مگر باوجود اختلاف مذہب کے خدا نے ان کی فطرت میں یہ ڈالا ہوا ہے کہ اپنے کام منصبی میں اخلاص اور دیانت کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑتے۔ان کو اس بات کا ایک سودا ہے کہ کام کی عمدگی اور خوبی اور صحت میں کوئی کسر نہ رہ جائے انہیں وجوہ کی نظر سے باوجود اس بات کے کہ دوسرے