حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 350 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 350

حیات احمد ۳۵۰ جلد دوم حصہ سوم خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور بھی ایک اہل نقد ی تھی جو انسانی منصوبوں سے ٹل نہیں سکتی تھی۔اس ظہور کی بڑی غرض یہ تھی۔کہ خدا تعالیٰ جس نے دنیا سے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔اور ایک دفعہ پھر اپنا روئے مستور دنیا پر ظاہر کرے۔وہ چاہتا تھا کہ ایک سورج کی طرح اپنی کر نیں ایک دفعہ پھر تاریک دنیا پر ڈال کر زندگی۔روشنی۔نور اور معرفت وحیات کا عالم پیدا کرے۔وہ دنیا کو اسی مادی اور دہریت کے زمانہ میں ایک دفعہ پھر اپنے کلام سے مست و دیوانہ بنانا چاہتا تھا۔اس نے ایک دفعہ پھر چاہا کہ وادی غیر ذی زرع کی روحانیت کو دنیا پر آشکارا کرے۔اُس نے ایک دفعہ پھر چاہا۔کہ وہ ابراہیم و موسی و عیسے " کے نظارہ سے زمین و آسمان کی ہم پلہ بنا دے۔اس نے چاہا کہ ایک دفعہ پھر گنگا کی وادی میں محبت کی بنسری بجانے والا کرشن بھیج کر دنیا کومست و بیخود بنادے۔یہ اٹل اور بالکل اہل ارادہ تھا۔جس نے اس محبوب و دلر با و دلنواز کو دنیا میں بھیجا۔بالکل وہی اہل تقدیر تھی اور اس مالک الکل کی تقدیر تھی۔کہ اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے اس محبوب اور پیارے کے لئے ایک اور شادی کا انتظام کرے۔0 اس الہام میں دوسرا فقرہ ” ایک اور شادی کروں“ کا ہے۔جو قابل غور ہے۔ایک اور کا لفظ اُسی جگہ بولا جاتا ہے۔جہاں پہلی چیز کافی نہ ہو۔یا اس ضرورت کو پوری نہ کرتی ہو جس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کوئی چیز وضع کی گئی تھی۔یہی دنیا کا دستور ہے۔الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں ایک اور “ کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے۔جبکہ پہلی چیز کافی نہ ہو۔بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک بیوی پہلے سے موجود تھی۔مگر جن اغراض و مقاصد کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں مبعوث کئے گئے تھے۔ان مقاصد کے بوجھ اور ان ذمہ داریوں کی وہ بیوی مستعمل نہ ہو سکتی تھی۔جیسے میں پہلے لکھ چکا ہوں۔کہ منشاء الہی تھا۔کہ :۔D ایک آسمانی روح والا لڑ کا پیدا کیا جائے۔اور ایسی اولاد پیدا کرے جو اُن نوروں کو تمام دنیا میں پھیلا دے۔