حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 340
حیات احمد ۳۴۰ جلد دوم حصہ سوم فرمایا کہ موسیٰ ابن عمران کی طرح اِنّى اَنَا رَبُّكَ کی آواز آئی۔موسیٰ علیہ السلام کی زندگی جو بعثت کی زندگی ہے۔اسی سفر سے جو آپ اپنے اہل کو لے کر کر رہے تھے شروع ہوتی ہے اسی طرح آپ کی زندگی میں جو تغیر اس سال ہوا وہ دراصل سلسلہ کے لئے ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے اگر چہ آپ کو مکالمات مخاطبات الہیہ کا شرف تو عرصہ دراز سے حاصل تھا اور کتاب براہین احمدیہ بھی آپ نے مجدد کی حیثیت سے لکھنی شروع کی تھی لیکن ۱۸۸۴ء میں بعض ایسے عظیم الشان واقعات پیدا ہوئے جو دراصل سلسلہ عالیہ احمدیہ کی عملی تعمیر کے لئے بطور بنیاد تھے۔جن میں سے ایک عظیم الشان خود آپ کی زندگی مکرر تابل کی زندگی ہے۔میں نے ان الہامات کی بناء پر جو عرصہ دراز پہلے ہو چکے تھے جن میں نہ صرف ایک نجیب الطرفین خاندان میں آپ کی شادی کی بشارت تھی بلکہ اس شادی کے ذریعہ ایسے وجود کی پیدائش کی بھی بشارت تھی جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کے لئے ایک جلیل القدر پہلوان ثابت ہوگا۔جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کی اشاعت کو مقدر کر رکھا تھا۔غور کرو کہ ۱۸۸۴ء میں جیسا کہ آگے آتا ہے آپ نے دوسری شادی کی اور اس شادی سے پیشتر مبشر اولاد کی آپ کو بشارت دی گئی تھی ۱۸۸۶ء میں اس مبشر اولاد کے رجُلِ عظیم کی بشارت دی گئی جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء میں عالم وجود میں آیا اور اس کی ولادت کے ساتھ ہی آپ نے اعلان بیعت کیا جس کے لئے آپ باوجودلوگوں کی درخواستوں کے کبھی تیار نہ ہوتے تھے۔اور ہر ایسے طالب کو ایک ہی جواب دیتے ” لَسْتُ بِمَأْمُورِ میں اس کے لئے مامور نہیں ہوں۔مگر اس رجُلِ عظیم یعنی مصلح موعود کے عالم وجود کے ساتھ ہی اس نوح ثانی علیہ الصلوۃ والسلام کو کشتی بیعت کی تیاری کا حکم دیا گیا ان واقعات کی صراحت اور تفصیل میں ۱۸۸۹ء کے واقعات میں انشاء اللہ کروں گا۔یہ تو میں تمہیدی طور پر اس واقعہ کی عظمت کے لئے لکھ رہا ہوں جو اس سال ۱۸۸۴ء میں ہوا جس سے میری مراد الہامی شادی ہے۔ان واقعات پر یکجائی نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ کی عملی بنیا د اسی سال