حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 339
حیات احمد ۳۳۹ جلد دوم حصہ سوم گئے ہیں یہ اُسی کی طرف سے ہیں نہ انسان کی طرف سے۔کیونکہ اگر یہ کتاب خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نہ ہوتی اور یہ تمام الہام اُس کی طرف سے نہ ہوتے تو یہ امر خدائے عادل اور قدوس کی عادت کے بر خلاف تھا کہ جو شخص اس کے نزدیک مفتری ہے اور اس نے یہ گناہ کیا ہے کہ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اس کا نام وحی اللہ اور خدا کا الہام رکھا ہے اس کو تئیس برس تک مہلت دے تا وہ اپنی کتاب براہین احمدیہ کے باقی ماندہ حصہ کو جہاں تک ارادہ الہیہ ہو اور نہ صرف اسی قدر بلکہ خدا اس پر یہ بھی احسان کرے کہ جو باتیں اس تکمیل کے لئے انسانی اختیار سے باہر تھیں ان کو اپنی طرف سے انجام دے دے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے شخص کے ساتھ یہ معاملہ لطف و احسان کا نہیں کرتا جس کو جانتا ہے کہ وہ مفتری ہے۔پس اس قدر دیر اور التواء سے یہ نشان بھی ظہور میں آ گیا کہ نصرت اور حمایت الہی میری نسبت ثابت ہو گئی۔اس لمبی مدت میں بہت سے کافر اور دقبال اور کذاب کہنے والے جو مجھے دائرہ اسلام سے خارج کرتے تھے اور مباہلہ کے رنگ میں جھوٹے پر بددعائیں کرتے تھے دنیا سے گزر گئے مگر خدا نے مجھے زندہ رکھا اور میری وہ حمایت کی کہ جھوٹوں کا تو کیا ذکر ہے دنیا میں بہت ہی کم بچے اور راستباز گزرے ہوں گے جن کی ایسی حمایت کی گئی ہو۔پس یہ خدا کا کھلا کھلا نشان ہے مگر ان کے لئے جو آنکھ بند نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کے نشانوں کو قبول کرنے کے لئے طیار ہیں۔میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲ تا ۱۰) براہین کا التوا جیسا کہ حضرت اقدس کے اعلان سے ظاہر ہے آپ کی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے۔براہین احمدیہ میں جو الہامات پیشگوئیوں کے رنگ میں درج ہو کر شائع ہو چکے تھے بعض تو ایسے تھے کہ ساتھ ساتھ پورے ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے جن کے ظہور کا ابھی وقت نہیں آیا تھا اس کا آغاز اسی ۱۸۸۴ء سے ہوتا ہے بظاہر براہین احمدیہ کی اشاعت کے التوا سے ایک غیر معمولی اثر بعض لوگوں پر پڑا اور وہ حسن ظن کے مقام سے گرے مگر جیسا کہ آپ نے