حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 338
حیات احمد جلد دوم حصہ سوم تب وہ وقت آ گیا کہ پنجم حصہ لکھا جائے اور اس حصہ پنجم کے وقت جو نُصرت حق ظہور میں آئی ضرور تھا کہ بطور شکر گزاری کے اس کا ذکر کیا جاتا۔سو اس امر کے اظہار کے لئے میں نے براہین احمدیہ کے پنجم حصہ کے لکھنے کے وقت جس کو درحقیقت اس کتاب کا نیا جنم کہنا چاہئیے اس حصہ کا نام نُصرت الحق بھی رکھ دیا تا وہ نام ہمیشہ کے لئے اس بات کا نشان ہو کہ باوجود صد با عوائق اور موانع کے محض خدا تعالیٰ کی نصرت اور مدد نے اس حصہ کو خلعتِ وجود بخشا۔چنانچہ اس حصہ کے چند اوائل ورق کے ہر ایک صفحہ کے سر پر نصرت الحق لکھا گیا مگر پھر اس خیال سے کہ تا یاد دلایا جائے کہ وہی براہین احمدیہ ہے جس کے پہلے چار حصے طبع ہو چکے ہیں بعد اس کے ہر ایک سر صفحہ پر براہین احمدیہ کا حصہ پنجم لکھا گیا۔پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔دوسرا سبب اس التوا کا جو تئیس برس تک حصہ پنجم لکھا نہ گیا یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ ان لوگوں کے دلی خیالات ظاہر کرے جن کے دل مرض بدگمانی میں مبتلا تھے اور ایسا ہی ظہور میں آیا کیونکہ اس قدر دیر کے بعد خام طبع لوگ بدگمانی میں بڑھ گئے یہاں تک کہ بعض نا پاک فطرت گالیوں پر اُتر آئے اور چار حصے اس کتاب کے جو طبع ہو چکے تھے کچھ مختلف قیمتوں پر فروخت کئے گئے تھے اور کچھ مفت تقسیم کئے گئے تھے۔پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔اگر وہ اپنی جلد بازی سے ایسا نہ کرتے تو ان کے لئے اچھا ہوتا لیکن اس قدر دیر سے ان کی فطرتی حالت آزمائی گئی۔اس دیر کا ایک یہ بھی سبب تھا کہ تا خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر ظاہر کرے کہ یہ کاروبار اُس کی مرضی کے مطابق ہے اور یہ تمام الہام جو براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں لکھے