حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 335
حیات احمد ۳۳۵ جلد دوم حصہ سوم اقول۔اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔قرآن شریف بھی باوجود کلام الہی ہونے کے تئیس برس میں نازل ہوا۔پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا اور اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور ناواقفی کے باعث ہوگا کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ رو پید اور بعض سے آٹھ آ نہ تک قیمت لی گئی ہے۔اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے ہوں اور جن سے پچیس روپے لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو طبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے۔اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق شور وغوغا کا خیال کر کے دو مرتی اشتہا دے دیا۔کہ جو شخص براہین احمدیہ کی قیمت واپس لینا چاہے وہ ہماری کتا ہیں ہمارے حوالے کرے اور اپنی قیمت واپس لے لے۔چنانچہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی اور بعض نے کتابوں کو بہت خراب کر کے بھیجا مگر پھر بھی ہم نے قیمت دے دی اور کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری کرنا نہیں چاہتے۔اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی۔مگر پھر بھی اب مجد داہم یہ چند سطور بطور اشتہار لکھتے ہیں کہ اگر اب بھی کوئی ایسا خریدار چھپا ہوا موجود ہے کہ جو غائبانہ براہین کے توقف کی شکایت رکھتا ہے تو وہ فی الفور ہماری کتا بیں بھیج دے ہم اس کی قیمت جو کچھ اس تحریر سے ثابت ہو گی اس کی طرف روانہ کر دیں گے۔اگر کوئی باوجود ہمارے ان اشتہارات کے اب اعتراض کرنے سے باز نہ آوے تو اس کا حساب خدا تعالیٰ کے پاس ہے کا یہ اشتہار تبلیغ رسالت جلد سوم کے صفحہ ۲۹ پر زیر نمبر ۱۰۴ درج ہے (المرتب) مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۳۲۸ تا ۳۳۲ بار دوم )