حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 332 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 332

حیات احمد ۳۳۲ جلد دوم حصہ سوم پر میری نظر کے سامنے ہیں ان کے مناسب حال میں نے ضروری سمجھا کہ اس پنجم حصہ کا نام ضرورت قرآن رکھا جائے۔اس حصہ میں یہی بیان ہوگا کہ قرآن کریم کا دنیا میں آنا کیسے ضروری تھا۔اور دنیا کی روحانی زندگی بغیر اس کے ممکن ہی نہیں۔اب میں یقین رکھتا ہوں کہ اس حصہ کے شروع طبع میں کچھ بہت دیر نہیں ہوگی لیکن مجھے ان مسلمانوں کی حالت پر نہایت افسوس ہے کہ جو اپنے پانچ یا دس روپیہ کے مقابل پر ۳۶ جزو کی ایسی کتاب پا کر جو معارف اسلام سے بھری ہوئی ہے ایسے شرمناک طور پر بد گوئی اور بدزبانی مستعد ہو گئے کہ گویا ان کا روپیہ کسی چور نے چھین لیا یا ان پر کوئی قزاق پڑا اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں کچھ بھی ان کو نہیں دیا گیا۔اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بدظنی سے اس قدر اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا۔اس عاجز کو چور قرار دیا۔مکار ٹھہرایا۔مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔حرام خور کہہ کر نام لیا۔دغا باز نام رکھا۔اور اپنے پانچ یا دس روپیہ کے غم میں وہ سیاپا کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لوٹا گیا اور باقی کچھ نہ رہا۔لیکن ہم ان بزرگوں سے پوچھتے ہیں کیا آپ نے یہ روپیہ مفت دیا تھا اور کیا وہ کتا ہیں جو اس کے عوض میں تم نے لیں جس کے ذریعہ تم نے وہ علم حاصل کیا جس کی تمہیں اور تمہارے باپ دادوں کو کیفیت معلوم نہیں تھی اور وہ بغیر ایک عمر خرچ کرنے کے اور بغیر خون جگر کھانے کے یوں ہی تالیف ہو گئی تھیں اور بغیر صرف مال کے یوں ہی چھپ گئی تھیں۔اور اگر در حقیقت وہ بے بہا جواہرات تھی جس کے عوض آپ نے پانچ یا دس روپیہ دیئے تھے تو کیا یہ شکوہ روا تھا کہ بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے ہمارا روپیہ لے لیا گیا۔آخران جوانمردوں اور پُر جوش مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے کہ جنہوں نے براہین کے ان حصوں کو دیکھ کر بغیر خریداری کی نیت کے صرف حقائق معارف کو مشاہدہ کر کے صدہا روپیہ سے محض اللہ مد کی اور پھر عذر کیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکے۔ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں تمام قو میں تلواریں کھینچ کر اسلام کے گرد ہو رہی ہیں۔اور