حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 322 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 322

حیات احمد ۳۲۲ جلد دوم حصہ سوم ہوں اگر یہ واقعہ ۲۷ / رمضان مطابق ۲۱ جولائی ۱۸۸۴ ء کا ہے تو صرف یوم جمعہ کی بجائے دوشنبہ کا دن ہوگا۔اور اس کے متعلق حضرت منشی صاحب کو سہو ہوا ہے۔اگر چه منشی صاحب کا تعلق تو حضرت اقدس سے ۱۸۸۲ ء ہی میں ہوا مگر آپ کے نام جو خطوط حضرت اقدس علیہ السلام نے لکھے ہیں افسوس ہے کہ ۸۳ ۸۴ ء کے خطوط میں سے کوئی دستیاب نہیں ہوا۔پہلا خط ستمبر ۱۸۸۴ء کا ہے غرض یہ واقعہ سرخ چھینٹوں کے نشان کا ۱۸۸۴ء میں ہوا۔سفر سو جان پور ملتوی حضرت اقدس کی زندگی میں جو چیز نمایاں ہے وہ آپ کی خلوت پسندی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔پسند ابتدا سے گوشہء خلوت رہا مجھ کو شہر توں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ وبار گوشه گزینی اور عبادت آپ کا شیوہ تھا۔اسی مقصد کے لئے آپ نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ کسی خاموش مقام پر جا کر عبادت کریں اور ایسی جگہ چلے جائیں جہاں کوئی آپ کو اور آپ کسی کو جانتے نہ ہوں اس غرض کے لئے آپ نے سو جان پور واقع ضلع گورداسپور کے مقام کو تجویز کیا تھا۔اب تو سو جان پور ایک اچھا خاصہ قصبہ بلکہ شہر کا رنگ رکھتا ہے۔وہاں شکر سازی کا بہت بڑا کارخانہ ہے اور آبادی بہت بڑھ گئی ہے مگر آپ نے جس زمانہ میں ارادہ فرمایا تھا اس وقت بقیہ حاشیہ: گزرتی ہے۔اور زیادہ افسوس یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ صحبت یافتہ یکے بعد دیگرے گزرتے جاتے ہیں اور ابھی تک ہم میں اکثر نے اُن سے وہ درس وفانہیں سیکھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی طرف سے لائے تھے اور جس کے بغیر ایک مذہبی قوم کی ترقی محال ہے۔“ (سیرت المہدی جلد اول حصہ دوم صفحه ۳۹۶ تا ۳۹۸ مطبوعه (۲۰۰۸)