حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 313
حیات احمد ۳۱۳ جلد دوم حصہ سوم تو آپ نے لودہانہ سے مالیر کوٹلہ کا بھی سفر کیا۔اور یہ سفر آپ نے نواب محمد ابراہیم علی خان کی والدہ صاحبہ کی درخواست پر کیا تھا۔نواب صاحب دماغی عارضہ سے بیمار تھے۔اور بیگم صاحبہ نے آپ سے دعا کی درخواست کی تھی۔اس سفر کے کوائف کے متعلق حضرت میر عنایت علی رضی اللہ عنہ کا بیان درج ذیل ہے۔حضرت شیخ غلام احمد (سابق ہیرالال) نو مسلم رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی ان ایام میں ہی انہوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اس سے پہلے حضرت اقدس کے حضور اود ہانہ میں شرف ملاقات حاصل کر چکے تھے۔سفر مالیر کوٹلہ کے وقت وہ مالیر کوٹلہ میں پہلے سے مقیم تھے۔چونکہ وہ نو مسلم تھے اور ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اس لئے ان کے قبول اسلام کا خاص شہرہ تھا اور بعض خطرات کے پیش نظر مالیر کوٹلہ کے ممتاز مسلمانوں نے ان کو وہاں بلا لیا تھا۔بہر حال حضرت میر عنایت علی صاحب کا بیان حسب ذیل ہے۔میر عنایت علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے تھے۔قریب آٹھ دس آدمی حضور کے ہمراہ تھے۔اس وقت تک ابھی مالیر کوٹلہ کی ریل جاری نہیں ہوئی تھی۔میں بھی حضور کے ہمرکاب تھا۔حضرت صاحب نے یہ سفر اس لئے اختیار کیا تھا کہ بیگم صاحبہ یعنی والدہ نواب ابراہیم علی خان صاحب نے اپنے اہلکاروں کو لدھیانہ بھیج کر حضرت صاحب کو بلایا تھا۔کہ حضور مالیر کوٹلہ تشریف لا کر میرے لڑکے کو دیکھیں اور دعا فرما ئیں کیونکہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب کو عرصہ سے خلل دماغ کا عارضہ ہو گیا تھا۔حضرت صاحب لدھیانہ سے دن کے دس گیارہ بجے قاضی خواجہ علی صاحب کی شکرم میں بیٹھ کر تین بجے کے قریب مالیر کوٹلہ پہنچے اور ریاست کے مہمان ہوئے جب صبح ہوئی تو بیگم صاحبہ نے اپنے اہلکاروں کو حکم دیا کہ حضرت صاحب کے لئے سواریاں لے جائیں تا کہ آپ باغ میں جا کر نواب صاحب کو دیکھیں مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمیں سواری کی ضرورت نہیں ہم پیدل ہی چلیں گے۔چنانچہ آپ پیدل ہی گئے اس وقت ایک بڑا ہجوم لوگوں کا آپ کے ساتھ تھا۔جب آپ باغ میں پہنچے تو مع اپنے ساتھیوں کے ٹھہر گئے۔نواب صاحب کوٹھی سے باہر آئے اور پہلی دفعہ حضرت صاحب کو دیکھ کر پیچھے ہٹ