حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 307 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 307

حیات احمد ۳۰۷ جلد دوم حصہ سوم چودھری صاحب بے شمار خوبیوں کے انسان تھے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ وہ سچے مسلمان تھے بلکہ میں اپنے ایمان میں اولیاء اللہ میں سے یقین کرتا ہوں۔حضرت اقدس کی محبت میں ایسے فانی اور گداز تھے کہ اس عشق میں انہوں نے بعض دھوکہ دینے والوں سے مالی نقصان بھی اٹھایا اور بار ہا اٹھایا مگر جب کوئی حضرت کا نام لے کر ان کے پاس چلا جاتا تو اس کو یاد محبوب کا ذریعہ یقین کر کے اس پر سب کچھ شمار کرنے کو تیار ہو جاتے ہمیشہ جو کچھ کمایا۔وہ سلسلہ کی خدمت میں دیا۔ہر ایک نیک تحریک میں سب سے بڑھ کر حصہ لینے کے لئے بڑے حریص تھے۔قادیان آ کر انہوں نے بیت المال کی خدمت اپنے ذمہ لی اور انجمن نے ان کو افسر بیت المال مقرر کیا اور لنگر کا انتظام ان کے سپرد کیا۔کیسی فروتنی طبیعت میں تھی۔کہ ان ایام میں ہمیشہ اپنے آپ کو خادم بیت المال لکھا کرتے بحالیکہ دوسرے صیغہ جات کے افسر اپنے آپ کو افسر لکھتے ہیں اور یہ کوئی گناہ کی بات بھی نہ تھی مگر انہوں نے ہمیشہ عاجزی اور فروتنی کو پسند کیا۔باوجود یکہ وہ لنگر خانہ کے آفیسر تھے مگر اپنے کھانے کے لئے اپنا انتظام اپنی گرہ سے کرتے تھے۔اور ایسی محنت اور جفاکشی سے کام کیا کہ اس تھوڑے ہی عرصہ میں کام کرنے والوں کے لئے ایک قیمتی نمونہ چھوڑ گئے ہیں معمولی اشیاء کے لئے وہ خود ادھر اُدھر دوڑتے پھرتے اور کوشش کرتے تھے ، سالانہ جلسہ میں غیر معمولی محنت اور متواتر شب بیداریوں نے انہیں سخت کمزور کر دیا۔آخر اسی جہاد ( خدمت دین) میں وہ شہید ہو گئے اور محبوب و مولا آقا کے حضور جا پہنچے۔چودھری صاحب کی کسی خوبی کا ذکر کریں ان کی خوبی کے لئے یہ کیا کم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام ان کے حق میں نازل ہوا۔چودھری رستم علی ، اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں چوہدری کے لفظ سے یاد فرمایا۔چودھری صاحب کی مفارقت بڑے رنج اور افسوس کا موجب ہے۔مگر اس لحاظ سے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اور اس کے دین کے خادم ہونے کی حیثیت میں دنیا سے رخصت ہوئے خوشی کا باعث ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ ا تذکرہ صفحه ۴۴۷ مطبوعه ۲۰۰۴ء