حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 299 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 299

حیات احمد ۲۹۹ جلد دوم حصہ سوم (۲) خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيْدُهَا سِيْرَتَهَا الأولى ( یہ آخری فقرہ پہلے بھی الہام ہو چکا ہے) ان دونوں الہامات کا ترجمہ یہ ہے۔(۱) کہ اے بیٹی اس کتاب کو قوت سے پکڑو۔(۲) اسے پکڑ لو اور ڈرومت ہم اسے اپنی پہلی سیرت پر لوٹا دیں گے۔خدا تعالیٰ کے مامورین و مرسلین کی زندگی کا یہی باب نہایت دلچسپ ہوتا ہے۔جبکہ دنیا اور اس کی ساری مادی طاقتیں ان کی مخالفت میں کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ اسے فنا کر دینا چاہتی ہیں۔اور بیکسی کی گھڑیوں اور مشکلات کی تاریک راتوں میں ان کے قلب پر سکینت کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خدا کا کلام کامیابی کی بشارتوں کو لے کر آتا ہے۔جہاں ایک طرف مخالف آپ کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں خدا عزت اور رفعت کے مقام پر کھڑے کرنے کا وعدہ دیتا ہے اور خطر ناک سے خطر ناک چیزوں کو بے ضرر بنا دینے کے سامان پیدا کر دینے کی بشارت ملتی ہے اور آخر وہی ہوتا ہے۔وَلِلَّهِ الْحَمْد باوجود یکہ حضرت اقدس خدا تعالیٰ کی ان بشارتوں کے ذریعہ تسلی دے رہے تھے لیکن میر عباس علی صاحب پر ایک خوف طاری تھا اور وہ گھبراہٹ کے خطوط متواتر لکھ رہے تھے۔دراصل یہی ایک بین فرق ہوتا ہے نبیوں کے ایمان میں اور دوسرے لوگوں کے ایمان میں چنانچہ انہوں نے فروری کے اخیر ہفتہ میں پھر ایک سخت گھبراہٹ کا خط لکھا کہ لودہانہ کے مولوی اور مفتی ایک طوفان بے تمیزی برپا کر رہے ہیں۔جس سے شدید مخالفت ہو رہی ہے اور یہ آگ ہر طرف پھیل جائے گی مگر حضرت نے انہیں پھر تسلی دی اور فرمایا کہ آں مخدوم کچھ تفکر اور تردد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے۔اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے۔کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوئے جب تک وہ