حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 298
حیات احمد ۲۹۸ جلد دوم حصہ سوم دیو بند سے نا کام ہو کر یہ لود بانوی حضرات دہلی پہنچے اور اس وقت کے علماء دہلی نے بھی اس فتوی کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور کفر کا فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔البتہ ان کی اشک شوئی کے لئے حضرت اقدس کو ایک خط لکھا۔جس کا خلاصہ خود حضرت میر عباس علی صاحب کو ۱۵ / فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۱۶ ؍ ربیع الثانی ۳۰۱ اھ اس طرح پر تحریر فرمایا:۔ایک خط دہلی کے علماء کی طرف سے اس عاجز کو آیا تھا کہ مولوی محمد نے تکفیر کا فتویٰ بہ نسبت اس خاکسار کے طلب کیا ہے نہایت رفق اور ملائمت سے رہنا چاہئے“ مکتوبات احمد جلد ا صفحه ۵۹۷ مطبوعه ۲۰۰۸ء) علماء دہلی کے مکتوب پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ان میں اس وقت تک خوف خدا اور تقویٰ اللہ موجود تھا اور وہ لو ہانہ کے مولویوں کی حقیقت سے واقف تھے حضرت اقدس تو کسی پر کوئی سختی کرتے ہی نہ تھے پھر آپ کے رفق کا تو خدا کی وحی میں بھی ذکر ہے بہر حال مخالفت کی آگ سلگائی جارہی ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں ایسی حالت میں کہ دشمن آگ بھڑکا رہے تھے اور ایک طوفان بے تمیزی پیدا کرنا چاہتے تھے اور بعض دوست بھی اس مخالفت کے طوفان سے ڈر رہے تھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارتیں مل رہی تھیں چنانچہ اسی ۱۵ / فروری ۱۸۸۴ء کو الہام ہوا۔يَا عَبْدَ الرَّافِعِ إِنِّي رَافِعُكَ إِلَيَّ إِنِّي مُعِنُّكَ لَا مَانِعَ لِمَا أُعْطِيْ (ترجمہ) اے عبدالرافع میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔میں تجھے عزت و بزرگی دینے والا ہوں جو میں عطا کروں اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ایک اور بشارت ۱۳ / فروری ۱۸۸۴ء کو ایک اور الہام ہوا جو پہلے بھی ہو چکا تھا۔(۱) يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَبَ بِقُوَّةٍ -