حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 295
حیات احمد ۲۹۵ جلد دوم حصہ سوم حضرت اقدس نے جواب دیا کہ جو کچھ آپ کے لئے مقدر ہے پورا ہوگا۔“ اس پر آٹھ سال گزر گئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تو ان کو کچھ انقباض ہوا لیکن اس پر بھی وہ کھلم کھلا مخالفت یا ارتداد پر آمادہ نہ ہوئے۔لیکن لودہانہ کے مباحثہ کے ایام میں کچھ دنوں تک مخالفین کی صحبت میں رہے۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ :۔نوشتہ تقدیر ظاہر ہوگیا اور پیشنگوئی پوری ہوگئی۔وہ صریح طور پر بگڑ گئے اور ایسے بگڑے کہ وہ یقین دل کا اور وہ نورانیت چہرہ کی سب جاتی رہی اور ارتداد کی تاریکی ظاہر ہو گئی۔اور پھر کھلم کھلا مقابلہ پر آ گئے۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ میں رسول نمائی کا دعویٰ کیا اور مولوی محمد حسین بٹالوی کو جو اس وقت شدید مخالف ہو چکا تھا۔ایک کھلونا ہاتھ آ گیا حضرت اقدس نے جواباً اس کے لئے ایک رسالہ لکھا اور محمد حسین کو مخاطب کر کے ایک شعر لکھا یا صوفی خود را برون آر یا تو بہ کن ز بد گمانی کے حضرت اقدس نے ہر چند کوشش کی کہ ان کی حالت میں اصلاح ہو جائے اور حضرت کو فی الحقیقت بہت درد تھا کہ یہ شخص جس نے اوائل میں اس قدر خدمت کی ہے اس طرح پر تباہ نہ ہومگر قدرت کے نوشتوں کو کون بدل سکتا ہے۔حضرت فرماتے ہیں۔وو مرتد ہونے کے بعد ایک دن وہ لدھیانہ میں پیر افتخار احمد صاحب کے مکان بقیه حاشیہ - إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا - وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا (الكهف: ۶۹،۶۸۔لیکن خداوند کریم سے نہایت قوی امید رکھتا ہے کہ وہ اس غربت اور تنہائی کے زمانہ کو دور کر دے گا۔آپ کی حالت قویہ پر بھی امید کی جاتی ہے کہ آپ ہر ایک انقباض پر غالب آویں گے۔وَالْأَمْرُ يَدِ اللَّهِ يَهْدِى مَنْ يَّشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلَى إِخْوَانِكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ - مکتوبات احمد یہ جلد ا صفحه ۱۴ ،۱۵۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحه ۵۲۵،۵۲۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) لے ترجمہ:اے صوفی یا تو خود کو ظاہر کر دے یا بد گمانی سے توبہ کرلے کے ترجمہ۔یقینا تو ہرگز میرے ساتھ صبر کی استطاعت نہیں رکھے گا۔اور تو کیسے اس پر صبر کر سکے گا جس کا تو تجربہ کے ذریعہ احاطہ نہیں کر سکا۔سے ترجمہ۔معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔آپ کو اور آپ کے مومن دوستوں کو سلام ہو۔