حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 289
۲۸۹ جلد دوم حصہ سوم حیات احمد لوگوں نے اس عاجز میں کوئی بات دیکھی ہے جو اُن کو ناگوار گزری ہے۔سو اُن کے دل منقطع ہو گئے۔آپ نے اُس وقت مجھ کو کہا کہ وضع بدل لو۔میں نے کہا نہیں بدعت ہے۔سو وہ لوگ بیزار ہو گئے اور ایک بقیہ حاشیہ:۔ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے۔پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علامات خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے اُس رویا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے۔مثلاً رسول اللہ صلعم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلاویں یا بعض قضاء و قدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلا دیں جو پہلے قلم بند اور شائع نہیں ہو چکے تو بلاشبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی ورنہ اگر ایک شخص دعوی کرے جو رسول اللہ صلعم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بے شک کافر اور دجال ہے اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلعم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اس خواب بین نے چالا کی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنالی ہے سواگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلعم ان کی خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھاویں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچا دیں کہ در حقیقت انہوں نے آنحضرت صلعم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے اور اگر انہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اس سیدھے طور سے مقابلہ کریں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے ہمیں بالفعل اُن کی رسول بینی میں ہی کلام ہے چہ جائیکہ ان کی رسول نمائی کے دعوی کو قبول کیا جائے۔پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعوی میں صادق ہیں یا کاذب۔اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلعم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا اعجوبہ بھی دکھلا دیں۔قادیان میں آجائیں۔مسجد موجود ہے اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف و گزاف ہے اور کچھ نہیں دکھلا سکتے اگر آئیں گے تو اپنی پردہ دری کرائیں گے۔سوچ سکتے ہیں کہ جس شخص نے بیعت کی ، مریدوں کے حلقہ میں داخل ہوا اور مدت دس سال سے اس عاجز کو خلیفہ اللہ اور امام اور مجہ دکہتا رہا اور اپنی خواہیں بتلاتا رہا کیا وہ اس دعوی میں صادق ہے۔عقلمند