حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم)

by Other Authors

Page 285 of 621

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 285

حیات احمد ۲۸۵ جلد دوم حصہ سوم بعض اشارات ہوئے اور آپ نے اس کو وقتا فوقتاً اس کی اطلاع بھی دی چنانچہ ۱۲ ستمبر ۱۸۸۳ء کو آپ نے ان کو لکھا کہ خدا وند کریم آپ کی تائید میں رہے اور مکروہات زمانہ سے بچاوے۔اس عاجز سے تعلق بقیہ حاشیہ:۔دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔انسان کا دل خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس حکیم مطلق کے آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔سومیر صاحب اپنی کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمائش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلاء کے اثر سے جوشِ ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے خشکی اور اجنبیت، اور اجنبیت سے ترک ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور ختم علی القلب سے جبری عداوت اور ارادہ تحقیر و استخفاف و تو ہین پیدا ہو گیا۔عبرت کی جگہ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے۔کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی صاحب کا یہ حال ہو گا۔مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے۔میرے دوستوں کو چاہئے کہ ان کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فروماندہ اور درگذشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں۔اور میں بھی انشاء اللہ الکریم دعا کروں گا۔میں چاہتا تھا کہ ان کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میر عباس علی کا اخلاص کس درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خوا ہیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کس انکساری کے الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں۔انشاء اللہ القدیر کیسی دوسرے وقت میں حسب ضرورت ظاہر کیا جائے گا یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہیبت کچی ارادت کی طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خِلِيفَةُ اللهِ فِی الْأَرْضِ لکھا کرتا تھا۔آج اس کی حالت کیا ہے۔پس خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے۔اپنی استقامتوں پر بھروسہ مت کرو۔کیا استقامت میں فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہو گا جن کو ایک ساعت کے لئے ابتلا پیش آ گیا تھا۔اور اگر خدائے تعالیٰ کا ہاتھ ان کو نہ تھا متا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی۔مجھے اگر چہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج