حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد دوم) — Page 281
حیات احمد وو ۲۸۱ جلد دوم حصہ سوم یہ عاجز معمولی زاہدوں اور عابدوں کے مشرب پر نہیں اور نہ اُن کی رسم اور عادت کے مطابق اوقات رکھتا ہے بلکہ ان کے پیرایہ سے نہایت بیگانہ اور دور ہے۔سَيَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ اگر خدا نے چاہا تو وہ قادر ہے کہ اپنے خاص ایماء سے اجازت فرما دے۔ہر ایک کو اُس جگہ کے آنے سے روک دیں اور جو پردہ غیب میں مخفی ہے اُس کے ظہور کے منتظر رہیں۔مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۷۳۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۸۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۴ء کا آغاز خدا تعالیٰ کی نئی برکات اور تازہ نشانات سے شروع ہوا۔قبولیت بڑھ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی دشمنوں کے دل میں آتش حسد و مخالفت بھی بھڑک رہی تھی خصوصاً علماء اور ہانہ سخت مخالفت پر آماد ہو چکے تھے (اس کا ذکر چونکہ پہلے ہو چکا ہے اب اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ) مگر حضرت اقدس ایک کامل سکون اور پورے استقلال اور ثبات قدم سے نہ صرف خود بلکہ اپنے مخلص احباب کو بھی تسلی دے رہے تھے کہ اس قسم کی مخالفتوں سے کچھ بگڑ نہیں سکتا ایک امر جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نہایت قابل غور ہے کہ آپ نے جیسے اپنے طریق و مشرب کو عام صوفیوں سے الگ اور جدا گانہ بتایا اور اس کے متعلق یہ ظاہر کیا کہ یہ وہ طریق ہے جس کی خدا تعالیٰ آپ کبھی کبھی بنیاد ڈالتا ہے۔اسی طرح جب آپ کی مخالفت کا ذکر آیا اور بعض مخلصین نے گھبرا کر لکھا کہ مخالفت شدید ہو رہی ہے تو آپ نے ان کو تسلی اور سکینت کے خطوط لکھے تو اس میں بھی انبیاء علیہم السلام کے طرز پر ہی جواب دیا چنانچہ میر عباس علی صاحب نے جب آپ کو لو د ہانہ کی مخالفت کی شدت کی اطلاع دی اور گھبراہٹ اور تر د دظاہر کیا تو آپ نے اس کو لکھا کہ آن مخدوم کچھ تفکر اور تردد نہ کریں اور یقیناً سمجھیں کہ وجود مخالفوں کا حکمت سے خالی نہیں۔بڑی برکات ہیں کہ جن کا ظاہر ہونا معاندوں کے عنادوں پر ہی موقوف ہے۔اگر دنیاوی معاند اور حاسد اور موذی لوگ نہ ہوتے تو بہت سے اسرار اور برکات مخفی رہ جاتے کسی نبی کے برکات کامل طور پر ظاہر نہیں ہوئے جب تک وہ کامل طور پر ستایا نہیں گیا۔اگر لوگ خدا کے بندوں کو جو کہ اُس کی طرف سے مامور ہو کر آتے ہیں یوں ہی